.

قطر نے تاریخ میں دہشت گردوں کو سب سے زیادہ تاوان ادا کیا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر اب تک 2015ء میں عراق میں یرغمال بنائے گئے اپنے 28 شہریوں کی رہائی کے لیے دہشت گرد تنظیموں کو کوئی رقوم ادا کرنے سے انکار کرتا چلا آ رہا ہے لیکن قطری حکام کے حال ہی میں افشا ہونے والے برقی پیغامات سے ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔

ان پیغامات سے اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ قطر نے اغوا شدگان کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف ممالک سے مدد حاصل کی تھی۔ نیز بغداد کے ہوائی اڈے پر پکڑی گئی 36 کروڑ ڈالرز کی رقم دراصل دہشت گرد گروپوں کو دینے کے لیے بھیجی گئی تھی۔اس قطری رقم سے مستفید ہونے والوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی بھی شامل تھے۔

قبل ازیں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپریل 2018ء میں اس ’’ڈیل‘‘ کی تفصیل شائع کی تھی اور پھر العربیہ انگلش نے بھی اس کا خلاصہ شائع کیا تھا۔بی بی سی نے اب قطری وزیر خارجہ اور سفیر وں کے درمیان تمام برقی اور صوتی مراسلت کی تفصیل شائع کردی ہے اور اس سے قطر کی جانب سے دہشت گردوں کو رقوم دینے سے متعلق تمام حقائق کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی

ان دستاویزات سے قطر کے عراق کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور یرغمالیوں کی محفوظ رہائی کے لیے ایک مبہم اقدام کا انکشاف ہوتا ہے اور یہ پتا چلتا ہے کہ قطری سفارت کاروں نے پچاس لاکھ ڈالرز سے پانچ کروڑ ڈالرز تک ایرانی عہدے داروں، عراقی لیڈروں اور نیم فوجی دستوں کے عہدے داروں میں تقسیم کیے تھے ۔ان میں ڈھائی کروڑ ڈالرز حزب اللہ کے ایک سینیر عہدے دار کو ادا کیے گئے تھے۔

برقی پیغامات سے پتا چلتا ہے کہ قطری رقم میں سے جنرل قاسم سلیمانی کو پانچ کروڑ ڈالرز ادا کیے گئے تھے۔عراق میں یرغمال بنائے گئے قطری شہریوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کار یا مصالحت کار کا کردار ادا کرنے والے مختلف افراد اور گروپوں کو پندرہ کروڑ ڈالرز ادا کیے گئے تھے۔امریکی حکام ایسے گروپوں اور افراد کو ایک عرصے سے بین الاقوامی دہشت گردی کے معاون اور مدد گار قرار دیتے چلے آ رہے ہیں۔

رپورٹ میں ایسے جن ثالث کار گروپوں کا حوالہ دیا گیا ہے، ان میں عراقی حزب اللہ ملیشیا، عراق جنگ کے دوران میں امریکی فورسز پر حملوں میں ملوث ایک پیرا ملٹری گروپ، لبنانی حزب اللہ ملیشیا اور شامی حزب اختلاف کے دو گروپ شامل ہیں۔ ان میں شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرہ محاذ بھی شامل ہے۔

تاوان کا مطالبہ

دستاویزات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عراقی اغوا کاروں نے قطری یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک ارب ڈالرز تک تاوا ن کا مطالبہ کیا تھا۔بعض یرغمالیوں کو اغوا کاروں نے مبینّہ طور پر قتل کردیا تھا لیکن عراق کی شیعہ ملیشیا ؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے ترجمان احمد الاسدی نے اس کی تردید کی ہے۔

افشا ہونے والے پیغامات قطر کے سفیروں اور وزیر خارجہ کے درمیان بات چیت کا حصہ ہیں۔عراق میں متعیّن قطری سفیر زاید بن سید الخیرین نے اس تمام معاملے میں اعلیٰ مذاکرات کار کا کردار ادا کیا تھا۔انھوں نے ایک گفتگو میں کہا:’’ شامی، حزب اللہ لبنان اور حزب اللہ عراق ،یہ سب رقم مانگ رہے ہیں۔یہ ان کے لیے ایک موقع ہے‘‘۔انھوں نے مذاکراتی عمل میں شریک دہشت گردوں سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ ’’ آپ کو آپ کی رقم اس وقت ملے گی جب ہمیں اپنے افراد مل جائیں گے‘‘۔

ان دستاویزات سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ قطر نے شام میں جیش الفتح اور ایران کے درمیان ثالث کار کا کردار ادا کیا تھا ۔اس کے نتیجے میں چار شہروں کا متنازع سمجھوتا طے پایا تھا۔اس سے شام میں بڑے پیمانے پر آبادی کی اکھاڑ پچھاڑ ہوئی تھی اور ایک طرح سے آبادی کے تناسب ہی کو بگاڑ دیا گیا تھا۔

دستاویزات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اغوا کے اس معاملے کا عراقی حکام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اور امریکا کو بھی قطری یرغمالیوں اور ان کے عراقی اغوا کاروں کے ٹھکانے کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔