.

مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال بہت ہوچکا: مقتدیٰ الصدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سرکردہ شیعہ سیاست دان اور مذہبی رہ نما مقتدیٰ الصدر نے احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف ریاستی اداروں کے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغداد اور دوسرے شہروں میں ہونے والے مظاہروں کو کُچلنے کے لیے طاقت کا بہت استعمال ہوچکا۔ حکومت مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی ترک کرکے ان کے جائز اور اصولی مطالبات پورے کرے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ کی گئی ’ٹویٹس‘ میں مقتدیٰ الصدرنے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے طاقت کے مختلف حربوں کے استعمال کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نہتے مظاہرین کے خلاف لاٹھی چارج، آنسوگیس اور دیگرمکروہ حربے استعمال کررہی ہے جس کے نتیجے میں حکومت کے خلاف عوام میں غم غصہ مزید بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے ذریعے لوگوں کو خاموش کرانے کی پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ اُنہوں نے لکھا کہ مظاہرین پر بہت ظلم ہوچکا۔ اب اسے بند کیا جانا چاہیے۔

ادھردوسری جانب عراق میں احتجاج کرنے والے شہریوں کی قائم کردہ رابطہ کمیٹیوں نے بغداد، ملک کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں ملین مارچ کرنے اور وسیع پیمانےپر مظاہروں کی کال دی ہے۔

رابطہ کمیٹیوں کی جانب سے ملک کے بڑے شہروں میں دھرنے دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ دوسر طرف ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو مقامی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے مظاہرین کو منشترکرنے،اُنہیں ریلیاں نکالنے سے منع کرنے دھرنے دینے سے روکنے کے لیے پوری طرح تیاریاں کرلی ہیں۔