اسرائیل کی غزہ پٹی کی ناکا بندی خاتمے کے قریب ہے : اسماعیل ہنیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی جماعت حماس کے رہ نما اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی غزہ کی پٹی کی گذشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے جاری ناکا بندی کا جلد خاتمہ ہوجائے گا۔

وہ غزہ میں منگل کو عید الاضحیٰ کے موقع پر ہزاروں فلسطینیوں کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے ممکنہ سمجھوتے کے بارے میں براہ راست گفتگو نہیں کی ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ اوسط نیکولے ملادینوف اور مصری حکام کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

اسرائیلی اور فلسطینی میڈیا میں گذشتہ کئی روز سے یہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ فریقین کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پاجائے گا جس کے تحت ا سرائیل اپنے دو فوجیوں کی لاشوں اور بعض شرائط کے بدلے میں غزہ کے محاصرے میں نرمی کردے گا ۔ البتہ وہ اس کو مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا۔اسرائیل اپنے دو شہریوں کی واپسی کا بھی مطالبہ کررہا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حماس کے زیر حراست ہیں ۔

اسماعیل ہنیہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’ ان مارچوں اور مزاحمت کا شکریہ ،ہم بس اس غیر منصفانہ ناکابندی کا صفحہ پلٹنے کے قریب ہیں ۔ہم غزہ کے غیر منصفانہ محاصرے کے خاتمے کی جانب بڑھ رہے ہیں ‘‘۔

وہ غزہ اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر گذشتہ چند ماہ سے جاری احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا حوالہ دے رہے تھے۔اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کی حالیہ احتجاجی تحریک پر قابو پانے کے لیے طاقت کا وحشیانہ ا ستعمال کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک سو ستر سے زیادہ فلسطینی شہید اور چار ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

حماس کے رہ نما نے اسرائیل کے ساتھ ممکنہ سمجھوتے کے بارے میں کہا کہ ’’یہ قومی اتفاق رائے سے اور عرب تحفظ کے تحت کیا جائے گا تاکہ جن باتوں پر اتفاق رائے ہو ، ان پر عمل درآمد کے لیے ضروری یقین دہانیاں حاصل کی جاسکیں‘‘ ۔

وہ بظاہر فلسطینی صدر محمود عباس کی جنگ بندی کے ممکنہ سمجھوتے سے متعلق تشویش کا حوالے دے رہے تھے۔محمود عباس مغربی کنارے کی حکمراں فلسطینی اتھارٹی کو اس سمجھوتے کا حصہ نہ بنانے پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسط بات چیت میں تیزی کے بعد غزہ کی سرحدپر حالیہ دنوں میں صورت حال میں بہتری آئی ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین نے منگل کو ایک فوجی مشق کے موقع پر کہا ہے کہ سرحد پر (تشدد کے ) واقعات میں ڈرامائی طور پر کمی واقع ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ’’ ہم درحقیقت مصریوں ، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی حکام سے گفتگو کررہے ہیں۔جہاں تک میرا تعلق ہے تو وہ صرف ایک انتظام ہے اور وہ برسرزمین حقیقت ہے‘‘۔ان کے کہنے کا یہ مطلب تھا کہ غزہ کی سرحد پر امن ہونا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں