.

ایرانی حکومت نے منشیات کی کاشت کے لیے خزانے کے منہ کھول دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے زراعت سے متعلق عہدیداروں نےانکشاف کیا ہے کہ حکومت مُلک میں منشیات کی کاشت کے لیے کاشت کاروں اور کسانوں کو قرضے جاری کرنے کے ساتھ مختلف دیگر پہلوؤں سے ان کی مدد اور حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق ایران کے ضلع کوھکیلویہ میں دانا زرعی آرگنائزیشن کے چیئرمین فضل اللہ اذرفر اور جنوب مشرقی ایران میں تنظیم کے عہدیدار بویر احمد نے انکشاف کیا کہ حکومت نے ’امام خمینی ریلیف کمیٹی‘ کے توسط سے ’ماریجوانا‘ [بھنگ] کی کاشت کے لیے کاشت کاروں کو 40 کروڑ تومان کی رقم قرض کے طورپر فراہم کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’ایلنا‘ سے بات کرتے ہوئے فضل اللہ کا کہنا تھا کہ کسانوں کی بحالی کا فنڈ تین سال سے بند تھا مگر ہمیں اس وقت حیرت ہوئی جب پتا چلا کہ ایک کسان نے 40 کروڑ تومان بھنگ کی کاشت کے لیے حکومت سے قرض کے طور پر لیے ہیں۔

تاہم امام خمینی کمیٹی کی طرف سے بھنگ اور دیگر منشیات کی کاشت کے لیے فنڈز کی فراہمی یا قرض جاری کرنے کے الزام کی تردید کی ہے۔

کمیٹی کی طرف سے تردید کے باوجود میڈیا میں آنے والی تصاویر میں پولیس کی موجودگی میں لوگوں کو بھنگ کی کاشت کرتے اور اس سے منشیات تیار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔