.

’’ایران اپنی کروز اور بیلسٹک میزائل ٹکنالوجی کو فروغ دینا چاہتا ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزارت دفاع کے اعلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا ملک بیلسٹک اور کروز میزائل صلاحیت کو بڑھانا چاہتا ہے۔ تہران اپنے ’’دفاع‘‘ کو مضبوط بنانے کے لئے نئے لڑاکا طیارے اور آبدوزیں بھی حاصل کرنے کا متمنی ہے۔

’’ہمارا میزائل پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے۔ امریکا سمیت دوسرے یورپی ملکوں کے مطالبے پر ہم اس پر مذاکرات نہیں کر سکتے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ہمارا میزائل تیاری کا پروگرام عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے معاہدے سے منسلک نہیں۔‘‘

سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’ارنا‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بین الاقوامی امور سے متعلق نائب وزیر دفاع محمد احدی کا کہنا تھا کہ’’ان کی وزارت نے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لئے جو نئے منصوبے تیار کئے ہیں ان میں بیلسٹک اور کروز میزائل کی صلاحیت میں اضافہ، نئے لڑاکا جہازوں، بھاری اور دور مار بحری جہاز، آبدوزیں اور دیگر ہتھیاروں کا حصول شامل ہے۔‘‘

تہران میں تعینات غیر ملکی سفارتخانوں سے وابستہ فوجی اتاشیوں سے ایک ملاقات میں مسٹر احدی کا کہنا تھا کہ ’’عالمی پابندیاں ایران کی اسلحہ صنعت کا فروغ روکنے میں ناکام رہی ہیں۔‘‘

’’ارنا‘‘ نے محمد احدی کے حوالے سے مزید بتایا کہ تہران کے پاس ضروری ڈھانچہ موجود ہے۔ ہمیں تحقیق کے بعد اسے نہ صرف عملی شکل دینا ہے بلکہ اپنی دفاعی صنعت کو اپ گریڈ اور اپ ڈیٹ بھی کرنا ہے۔ ہمیں یہ سب ٹیکنیکل اور انجیئرنگ کے میدان میں موجود ہزاروں گریجویٹس اور ملک میں موجود اعلی سائنسی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے کرنا ہے۔‘‘