ترکی ادلب میں بشار الاسد کے خلاف ایک لاکھ جنگجو جمع کرنے میں کامیاب ہو سکے گا ؟
شام میں اِدلب صوبے کے اطراف بشار کی فوج کی جانب سے روسی فضائیہ کی معاونت سے عسکری کارروائیاں شروع کیے جانے کے بعد ،،، ترکی کی فوج کی قیادت نے شامی جیشِ حُر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی موجودہ عسکری حالت کے بارے میں تفصیلی رپورٹ ارسال کرے۔ رپورٹ میں ہتھیاروں کی تعداد اور گولہ بارود کی مقدار کے علاوہ فوجی اہل کاروں کی نفری کے حوالے سے معلومات شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تُرک اخبار "ينی شفق" کے مطابق ترکی کی فوجی قیادت کی جانب سے مذکورہ رپورٹ کا طلب کیا جانا 50 ہزار جنگجوؤں کے ذریعے عسکری گنجائش کو پورا کرنے کی تیاری کے سلسلے میں ہے۔ اس تعداد کو "نیشنل آرمی" میں تقسیم کیا جائے گا جس کی تشکیل ماضی میں "فرات کی ڈھال" اور "زیتون کی شاخ" نامی دو فوجی آپریشنوں کے دوران عمل میں آئی تھی ،،، جب کہ ان میں 10 ہزار کو اسی علاقے میں باقی رہنے دیا جائے گا اور 30 ہزار ارکان کو اِدلب منتقل کیا جائے گا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اِدلب میں ضم ہونے والے شامی اپوزیشن کے گروپوں کے عناصر کی تعداد 30 ہزار جنجگوؤں سے تجاوز کر جائے گی۔
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر اِدلب میں قتل عام ہوا تو اُن کا ملک خاموش تماشائی بن کر کھڑا نہیں رہے گا۔ ترکی کی جانب سے سرحد پر ہونے والی عسکری نقل و حرکت دفاعی نوعیت کی نہیں بلکہ اُن میں اقدامی حملے کا پہلو بھی نظر آ رہا ہے۔ ادلِب میں "نیشنل آرمی" کے ارکان کی تعداد میں اضافے کے لیے ترکی کی کاوشیں ،،، علاقے میں یا اُس کے باہر سرگرم بڑے عسکری جتھوں کو ضم کرنے کی متقاضی ہیں۔
ادلب کے دیہی علاقے میں رواں سال تین فروری کو ایک مشترکہ آپریشن روم قائم کیا گیا جس میں ترکی کے حمایت یافتہ 11 گروپ شامل تھے۔ ترکی نے پہلے ہی یہ شرط رکھ دی تھی کہ اس ان گروپوں کا دائرہ کار ادلب کے مشرقی دیہی علاقے اور کُرد اکثریت علاقے "عفرین" کے بیچ ہو گا۔
مبصرین کے نزدیک شامی اپوزیشن ایک عسکری محاذ تلے ضم ہونے کا آپشن اختیار کر رہی ہے۔ بالخصوص شام کے شمال میں دو بنیادی عسکری محاذ سرگرم ہیں۔ ان میں پہلا "نیشنل آرمی" اور دوسرا "نیشنل فرنٹ لبریشن فرنٹ" ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی نے نیشنل آرمی کے سربراہ کرنل ہیثم العفیسی کے حوالے سے بتایا ہے کہ اُن کی تنظیم کا ترکی کے حمایت یافتہ شامی عسکری گروپوں کے ساتھ انضمام کا امکان ہے۔ اس وقت نیشنل آرمی میں شامی اپوزیشن کے 35 ہزار کے قریب جنگجو شامل ہیں جب کہ نیشنل لبریشن فرنٹ میں مختلف گروپوں کے تقریبا 70 ہزار جنگجو شریک ہیں۔ اس طرح دونوں کے مکمل ضم ہو جانے کی صورت میں اس عسکری فورس کی مجموعی تعداد ایک لاکھ جنگجوؤں سے تجاوز کر جائے گی۔ واضح رہے کہ "نیشنل آرمی" کی تشکیل میں ترکی کا بنیادی کردار رہا ہے۔ روسی میڈیا نے رواں ماہ امریکی میڈیا کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ نیشنل آرمی کے نیشنل لبریشن فرنٹ کے ساتھ انضمام کی صورت میں یہ فورس اِدلب میں شامی فوج کی پیش قدمی کی راہ میں رکاوٹ بن جائے گی۔
انقرہ کی جانب سے نیشنل آرمی کی مالی سپورٹ جاری ہے اور وہ جنگجوؤں کی ماہانہ تنخواہ کے علاوہ عسکری تربیت کے اخراجات بھی برداشت کر رہا ہے۔
مئی 2017ء میں آستانہ میں روس اور ایرانیوں کے ساتھ طے پائے جانے والے سیف زون کے معاہدے کے تحت ترکی نے اِدلب میں اپنے 12 ملٹری کنٹرول پوائنٹس بنائے ہیں۔
شامی حکومت کے سربراہ بشار الاسد نے ادلب پر مکمل کنٹرو حاصل کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ بشار نے حالیہ عرصے میں اعلان کیا کہ وہ صوبے کو مکمل طور پر واپس لینے کے درپے ہے۔ واضح رہے کہ ادلب شامی اپوزیشن کے زیر کنٹرول آخری بڑا علاقہ ہے۔
-
بین الاقوامی اتحاد کی شام میں داعش کی باقیات پر حملے کے آغاز کی تصدیق
شام میں داعش تنظیم کے خلاف برسر جنگ بین الاقوامی اتحاد کے ذمّے داران نے منگل کے ...
بين الاقوامى -
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا شام کے صوبہ ادلب میں ’’ ناگزیر تباہی‘‘ پر انتباہ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں ...
مشرق وسطی -
شام میں کنٹرول پوائنٹس کی جانب ترکی کی عسکری کُمک میں اضافہ
شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق ترکی نے شام میں اپنے کنٹرول ...
مشرق وسطی