.

بائیکاٹ کے اثرات ، قطر ایئرویز کو ایک سال میں 25.2 کروڑ ریال کا خسارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جون 2017ء سے چار عرب ممالک کی جانب سے جاری دوحہ کے سفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ کے منفی اثرات بدستور سامنے آ رہے ہیں۔ قطر کی فضائی کمپنی "قطر ایئرویز" کو گزشتہ 12 ماہ کے دوران 25.2 کروڑ قطری ریال (6.9 کروڑ ڈالر) کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قطر ایئرویز نے اس بھاری خسارے کو علاقائی سیاسی بحران کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے آج جاری ہونے والے مالیاتی ڈیٹا کے مطابق یہ خسارہ مارچ 2018ء میں اختتام پذیر ہونے والے مالیاتی سال کا ہے۔

قطر ایئرویز نے اقرار کیا ہے کہ سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے پابندی کے سبب آخری سال اس کے لیے مشکل ترین رہا۔ کمپنی کے مطابق اپریل 2017ء سے مارچ 2018ء تک جاری رہنے والا مالیاتی سال قطر کی قومی فضائی کمپنی کے لیے گزشتہ 20 برسوں کا بدترین سال رہا۔

بائیکاٹ کے ایک سال کے بعد قطر ایئرویز پر مرتّب ہونے والے 3 نمایاں ترین اثرات یہ ہیں :

- مسافروں کی مجموعی تعداد 3.2 کروڑ سے کم ہو کر 2.92 کروڑ رہ گئی یعنی کہ ایک سال میں 28 لاکھ مسافروں سے ہاتھ دھو ڈالے۔

- مالیاتی نتائج کے توازن میں شدید بگاڑ ،،، مارچ 2017ء کے اختتام پر 2.8 ارب قطری ریال کا خالص منافع مارچ 2018ء کے اختتام پر 25.2 کروڑ قطری ریال کے خالص خسارے میں تبدیل ہو گیا۔

- ایک سال کے اندر 18 بین الاقوامی مقامات کے رُوٹس سے ہاتھ دھو لیے۔ علاوہ ازیں فضائی حدود سے گزرنے کی پابندی کے باعث مختلف امور کے ضمن میں اضافی اخراجات کا بوجھ.