رفیق حریری کے قاتل کے نام سڑک منسوب کرنا ’فتنہ‘ ہے: سعد حریری
لبنانی وزیراعظم سعد حریری نے اپنے مقتول والد اور سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قاتل کے نام بیروت کی ایک سڑک منسوب کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک نیا ’فتنہ‘ قرار دیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں سعد حریری نے کہا کہ رفیق حریری کے قاتل مصطفیٰ بدرالدین کو عزت توقیر دینا اور سڑکوں کو اس کے نام منسوب کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔
’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بعض لوگ لبنان کو کسی اور جگہ لے جانا چاہتےہیں۔ انہیں لبنانی عوام اور اللہ کے سامنے اپنی ذمہ داری کا جواب دینا ہو گا۔
تسمية شارع على اسم مصطفى بدر الدين، أمر مؤسف، هناك اشخاص يريدون اخذ البلد الى مكان آخر وعليهم ان يتحملوا مسؤولية ذلك امام الله سبحانه وتعالى وامام المواطن اللبناني. نحن نتحدث عن اطفاء الفتنة اما هذا الامر فهو الفتنة بحد ذاتها #أحداث_اليوم pic.twitter.com/D4cKnwcirY
— Saad Hariri (@saadhariri) September 18, 2018
سعد حریری کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں فتنہ و فساد ختم کرنا چاہتے ہیں مگر بعض لوگ اس فساد کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ مصطفیٰ بدرالدین بہ ذات خود ایک فتنہ ہے۔
خیال رہے کہ لبنان میں عوامی حلقے پیر کے روز اُس وقت حیران ہو گئے جب دارالحکومت بیروت کے علاقے الغبیری میں ایک سڑک پر مصطفی بدرالدین کے نام کی تختی نظر آئی۔ بدرالدین کو لبنان کی خصوصی عدالت سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کے جرم کا ماسٹر مائنڈ قرار دے چکی ہے۔ رفیق حریری 14 فروری 2005ء کو بیروت میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
الغبیری کی بلدیہ کی جانب سے اس موقع پر مذکورہ اقدام کو بعض لبنانیوں بالخصوص وزیراعظم سعد حریری کے حامیوں کی جانب سے اشتعال انگیز قرار دیا جا رہا ہے۔ اس لیے کہ ہالینڈ کے شہر ہیگ میں جرائم کی بین الاقوامی عدالت ان دنوں رفیق حریری قتل سے متعلق مقدمے کی اختتامی کارروائیاں عمل میں لا رہی ہے۔
ادھر نگراں حکومت میں لبنانی وزیر داخلہ و بلدیات نہاد المشنوق ایسے کسی بھی فیصلے پر دستخط کرنے کی تردید کی ہے جس میں الغبیری کی بلدیہ کو مصطفی بدرالدین کے نام سے سڑک موسوم کرنے کی اجازت دی گئی۔
پیر کی شب سلسلہ وار ٹوئیٹس میں المشنوق نے باور کرایا کہ "وہ یہ نام دینے پر آمادہ نہیں ہیں اور الغبیری کی بلدیہ کا فیصلہ وزارت داخلہ کی جانب سے مسترد کیا جاتا ہے"۔
لبنانی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ منگل کے روز الغبیری کی بلدیہ کو ارسال کی جانے والی ایک تحریر میں سڑک پر مذکورہ نام کے بورڈز کو ہٹانے کا مطالبہ کرے گی۔
یاد رہے کہ لبنان میں خصوصی عدالت کی استغاثہ نے گزشتہ ہفتے رفیق حریری کے قتل کی براہ راست سیاسی ذمّے داری حزب اللہ تنظیم اور شامی حکومت پر عائد کی تھی تاہم کسی بھی رہ نما ذمّے داروں کو ملزم ٹھہرانے سے گریز کیا گیا۔