.

روسی فوج کی طیارہ مار گرانےوالے 5 شامی افسروں سے پوچھ تاچھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں ہفتے غلطی سے روس کا ایک جنگی جہاز مار گرانےوالے شامی فوج کے افسروں کو اس وقت سخت حالات کا سامنا ہے کیونکہ انہیں اپنے حلیف ملک روس کی قائم کردہ ایک تحقیقاتی کمیٹی کو ’ای 20‘ کو مار گرانے کی جواب دہی کرنا پڑ رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق حال ہی میں جب روسی جنگی طیارہ مار گرانے میں شامی محکمہ دفاع کےایک بریگیڈ کا نام سامنے آیا تو اس کے بعد شامی فوج میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔

اخباری اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز شامی فوج کے پانچ سینیر افسران نے ’بانیاس‘ کے مقام پر روسی فوج کی طرف سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کرطیارہ مار گرانے کی غلطی کے بارے میں اپنا موقف بیان کیا۔ اس موقع پر شامی فوجی افسروں کےساتھ روسی فوجی حکام بھی موجود تھے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’آبزر ویٹری‘ کے مطابق طرطوس گونری میں تعینات فضائی دفاع کے بریگیڈ کے پانچ افسروں نے روس کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر سوالوں کے جواب دیے۔ ان میں سے تین کو واپس بھیج دیا گیا جب کہ دو افسران کو مزید پوچھ تاچھ کے لیے روک لیا گیا ہے۔

قبل ازیں بدھ کو روسی حکومت نے کہا تھا کہ وہ شام کے ساحل پر ’ایل 20‘ نامی جنگی طیارے کے مار گرائے جانے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کررہا ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ افواہیں بھی آئی تھیں کہ روس نے جنگی جہاز مار گرانے والے متعدد شامی فوجی افسروں کو گرفتار کرلیا ہے۔

خیال رہے کہ شامی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اللاذقیہ میں ایک مبینہ اسرائیلی حملے کو ناکام بنانے کے لیے غلطی سے روسی جنگی طیارے کو میزائل سے نشانہ بنایا تھا۔

ماسکو کی وزارت دفاع کے مطابق جنگی جہاز شام کی سرزمین پر گر کر تباہ ہوا۔ یہ غلطی تھی مگراس کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ جہاز میں سوار عملے کےپندرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ روس نے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ وہ اس اقدام پر اسرائیل کے خلاف کارروائی کا بھی حق رکھتا ہے۔