غزہ میں متعیّن اقوام متحدہ ایجنسی کے غیر ملکی ملازمین کا سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انخلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ کے تحت فلسطینی مہاجرین کی امدادی ایجنسی اُنروا نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر غزہ کی پٹی سے اپنے غیرملکی عملہ کے بعض ارکان کو عارضی طور پر واپس بلا لیا ہے۔

اُنروا نے یہ فیصلہ مالی بحران کا شکار ہونے کے بعد فلسطینی ملازمین کی جبری سبکدوشی سے پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر کیا ہے۔ اُنروا کے ہزاروں فلسطینی ملازمین اپنی ملازمتیں کھوجانے پر غزہ کی پٹی میں سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

ایجنسی نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ’’ غزہ کی پٹی میں سلسلہ وار سکیورٹی واقعات رونما ہوئے ہیں اور وہ اس کے اہلکاروں کے کام پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔اس لیے اس نے اپنے بین الاقوامی عملہ کے ایک حصے کے غزہ سے عارضی طور پر انخلا کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔

ایجنسی کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ عملہ کے قریباً دس ارکان غزہ کی پٹی سے بارڈر کراسنگ عبور کرکے اسرائیلی علاقے کی جانب چلے گئے ہیں۔

اُنرو ا کے ہزاروں ملازمین نے گذشتہ سوموار کو جبری برطرفیوں اور امریکی امداد کی کٹوتی کے خلاف ایک روزہ ہڑتال کی تھی ۔ان ملازمین کی لیبر یونین کی اپیل پر غزہ میں ڈھائی سو سے زیادہ اسکولوں کے علاوہ طبی اور امدادی تقسیم کے مراکز بند رکھے گئے تھے۔

اُنروا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مالی امداد میں کٹوتی کے بعد اسامیوں اور خدمات میں تحدید ناگزیر ہوچکی ہے۔ امریکا فلسطینی مہاجرین کو بنیادی شہری سہولیات مہیا کرنے کی ذمے دار اس ایجنسی کو 35 کروڑ ڈالرز سالانہ امداد کی شکل میں دے رہا تھا لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سال کے اوائل میں یہ تمام کی تمام رقم بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس رقم کو اب اسرائیل کی امداد یا دوسرے منصوبوں کے لیے مختص کردیا ہے۔

امریکی صدر کے فیصلے کے بعد اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی مالی مشکلات سے دوچار ہوگئی ہے اور اس نے غزہ اور مغربی کنارے میں ڈھائی سو اسامیاں ختم کرنے اور پانچ سو سے زیادہ کل وقتی ملازمین کو جزوقتی قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔لیبر یونین برطرف کیے گئے ملازمین کی بحالی کا مطالبہ کررہی ہے ۔اس کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کے علاوہ مزید اقدامات بھی کرسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں