آخر کار شامی وزیر خارجہ نے عوامی تحریک کو "انقلاب" تسلیم کر لیا !
شام میں انقلابی تحریک کے آغاز کے بعد سے پورے عرصے تک مسلسل انکار اور عدم اعتراف کے بعد بالآخر بشار حکومت کی وزارت خارجہ نے "انقلاب" کا لفظ استعمال کر ہی لیا۔ اس سے قبل شامی حکومت کے عہدے داروں کی زبانوں پر اس تحریک کو "جنگ" ، "تشدّد"، "مداخلت" اور "سازش" قرار دیا جاتا رہا ہے۔
پیر کے روز شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے اپنے عراقی ہم منصب کے ساتھ ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔ اس دوران شام کے معاملات کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے المعلم نے کہا کہ " آپ اب بیدار ہوئے ہیں .. انقلاب تو کئی سالوں سے جاری ہے.."
تقریبا آٹھ برس تک لاکھوں افراد کے جاں بحق اور بے گھر ہونے کے بعد آخر کار بشار حکومت کے کسی عہدے دار نے ملک میں جاری عوامی تحریک کے فطری نام کا اعتراف کر لیا اور وہ ہے "انقلاب" ... یہ نہ ساز ہے اور نہ انارکی جیسا کہ شامی حکومت اس کو نام دیتی رہی ہے۔
بشار حکومت 2011ء میں شامی انقلاب کے ابتدائی ایام سے ہی اس تحریک کو ایسے ناموں سے متصف کرتی رہی جن کے ذریعے اس کے معتبر اور عوامی ہونے کو مشکوک بنایا جا سکے۔ تاہم پیر کے روز ہونے والی پریس کانفرنس میں پہلی بار (سرکاری طور پر) ملک میں جاری واقعات کو صحیح نام دیا گیا ... یہ انقلاب تھا !