ہم اوباما نہیں، ایران پر سخت ترین دبائو ڈالیں گے:جون بولٹن
امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی مطالبات منوانے کے لیے ایران پر سخت ترین دبائو ڈالا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا میں اب باراک اوباما کی حکومت نہیں کہ ایران کے ساتھ نرمی برتی جائے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق آرمینینا کے دارالحکومت ایروان میں "آزادی ریڈیو" سے بات کرتے ہوئے جون بولٹن کا کہنا تھا کہ تہران کے حوالے سے امریکا کی موجودہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمینیا اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات برقرار رہنا ایک مسئلہ ہے اور اس کا حل نکالیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا تھا کہ آرمینیا کے وزیر اعظم آپ کے ملک کی ایران سے ملنے والی سرحد اہمیت کی حامل ہے۔ ہم ایران پر سخت ترین دبائو ڈال رہےہیں تاکہ وہ اپنی جوہری سرگرمیوں سے باز آئے،دہشت گردی کی حمایت اور پشت پناہی ترک کرے اور خطےمیں داخلت کی پالیسی ختم کرے۔ ہمیں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، شام، عراق اور دوسرے علاقوں میں بڑھتی ایرانی سیاسی اور عسکری مداخلت پر بھی گہری تشویش ہے۔
جون بولٹن کا کہنا تھا کہ ہم اپنے دوستوں کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتے۔ ایران کے حوالے سےہماری پالیسی واضح ہے۔ توقع ہے کہ آرمینیا ایران کے خلاف ہمارے اقدامات میں امریکا کی مدد کرے گا۔
-
ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کو بڑھا رہا ہے: جون بولٹن
امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن نے بدھ کو ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران ...
بين الاقوامى -
جون بولٹن اسرائیل کو ایران پر حملے کے لیے اکساتے رہے:شاؤل موفاز
اسرائیل کے سابق وزیر دفاع جان شاؤل موفاز نے کہا ہے کہ امریکا کے قومی سلامتی کے نو ...
مشرق وسطی -
ایران میں جبر وتشدد اور پھانسیوں کی نئی لہر :اقوامِ متحدہ کے نمایندہ کی رپورٹ
ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمایندہ ...
بين الاقوامى