شام: بعد از جنگ حق ملکیت ثابت کرنے کے متنازع قانون کی مہلت میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام کے صدر بشار الاسد نے حق ملکیت سے متعلق متنازعہ قانون کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔ اس کے نتیجے میں جنگ کے سبب نقل مکانی اور ہجرت پر مجبور ہو جانے والے شامی شہریوں کو مزید 11 ماہ کا عرصہ دیا گیا ہے تا کہ اس دوران وہ اپنی زمینوں کے کلیم داخل کروا دیں۔

رواں سال اپریل میں بشار نے قانون نمبر 10 جاری کیا تھا۔ اس کے تحت شامی حکومت کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ جنگ کے دوران تباہ ہو جانے والے شہری علاقوں کو تعمیر نو کے عمل میں شامل کر سکتی ہے۔ قانون میں ابتدائی طور پر شامی شہریوں کو 30 روز کی مہلت دی گئی تھی جس کے دوران وہ مذکورہ علاقوں میں اپنی جائیداد پر حق ملکیث ثابت کر کے زر تلافی کے لیے درخواست دے سکتے تھے۔ بصورت دیگر مقررہ مدت گزر جانے کے بعد یہ املاک شامی حکومت کے قبضے چلی جائے گی۔ اس قانون نے تقریبا 1.2 کروڑ شامی مہاجرین اور پناہ گزینوں کے اندر شدید تشویش کی لہڑ دوڑا دی کیوں کہ ان افراد کے لیے کسی طور یہ ممکن نہ تھا کہ وہ 30 روز کے اندر اپنے مقام پر واپس آ کر حق ملکیت کا دعوی ثابت کریں۔

اس قانون کے نتیجے میں بشار حکومت کو بین الاقوامی سطح پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سلسلے میں شدید ترین نکتہ چینی جرمن وزارت خارجہ کی جانب سے 28 اپریل کو جاری بیان میں سامنے آئی۔ بیان میں بشار الاسد کے اس قانون کو "دھوکے بازی" قرار دیا گیا۔

علاوہ ازیں انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی بشار حکومت کے اس اوچھے ہتھکنڈے کو سراسر دغا بازی اور شہریوں کو ان کی املاک سے محروم کرنے کی چال قرار دیا۔

اتوار کے روز بشار الاسد نے قانون نمبر (10) میں ترمیم کر کے قانون نمبر (42) جاری کیا ہے۔ ترمیم کے ذریعے اب شامی شہریوں کے لیے حق ملکیت کی درخواست جمع کرانے کی مہلت میں 11 ماہ کا اضافہ کر کے اسے 1 سال کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض مزید ترامیم کی گئی ہیں۔ شامی شہری اپنا دعوی ایک مخصوص جوڈیشل کمیٹی کے بجائے عام عدالتوں کے ذریعے بھی داخل کر سکیں گے۔ وہ افراد جن کی جائیداد پہلے سے حکومت کے پاس "لینڈ رجسٹری" میں درج ہے، ان کو اپنا حق ملکیت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

شامی حکومت کی جانب سے ابھی تک اس بات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے کہ وہ قانون نمبر (10) کے تحت کن علاقوں کو تعمیر نو کے منصوبے میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مبصرین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں صرف اتنا ہوا ہے کہ شامیوں کا حق ملکیت غصب کرنے کی مہلت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ شامی اپوزیشن، یورپی حکومتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانون کو منسوخ کر دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں