.

ایرانی صدر روحانی کے معاون برائے اقتصادی امور مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی کے اقتصادی امور کے معاون مسعود نیلی نے اپنا استعفا پیش کر دیا ہے۔ اس بات کی تصدیق ایرانی خبر رساں ایجنسی "اِسنا" نے جمعرات کے روز کی۔ ایجنسی کے مطابق مسعود نیلی کی جگہ اب علی طیب ،،، مانیٹری اینڈ کریڈٹ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

ادھر منصوبہ بندی اور تعلیم کے اعلی ادارے کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ صدر روحانی نے اقتصادی امور کے لیے اپنے خصوصی معاون اور اقتصادی رابطہ کاری کمیٹی کے سکریٹری مسعود نیلی کا استعفا منظور کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران مسعود نیلی کا روحانی کے ایک معاون اور آرگنائزیشن آف بجٹ اینڈ پلاننگ کے سربراہ محمد باقر نوبخت اور حسن روحانی کے دفتر کے سربراہ محمود واعظی کے ساتھ تنازع چل رہا تھا۔ مسعود نیلی کا استعفا ایرانی حکومت میں نوبخت اور واعظی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی جانب ممکنہ اشارہ ہے۔

مسعود نیلی کو حسن روحانی کی حکومت کے اہم ترین ماہرین معیشت میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے برطانیہ کی مانچسٹر یونیورسٹی میں معاشیات کی تعلیم حاصل کی۔ وہ ہاشمی رفسنجانی اور محمد خاتمی کی حکومتوں میں پلاننگ اینڈ بجٹنگ آرگنائزیشن کے نائب کے طور پر کام کر چکے ہیں۔

مسعود کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے اقتصادی تجربے کے باوجود ایران کی اقتصادی صورت حال کی بہتری کے لیے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔

مسعودی نیلی کا استعفا ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب کہ ایران کو کٹھن اقتصادی اور سیاسی حالات کا سامنا ہے۔ امریکا نے تہران کے خلاف پابندیوں کا دوسرا مرحلہ لاگو کر دیا ہے۔ اس مرحلے کا بنیادی ہدف ایران کی تیل کی برآمدات کو صفر تک لے جانا ہے۔ اس کا معنی ہوا کہ نقدی کی صورت میں ایران کی آمدنی کم ہو جائے گی۔ اس کے نتیجے میں اقتصادی اور سماجی انجماد بڑھ جائے گا اور ملک میں احتجاج، ہڑتالوں اور کشیدگی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔