.

حماس نے غزہ میں فائر بندی کے حوالے سے اسرائیل کی دو شرطیں مسترد کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی تنظیم حماس نے اتوار کے روز فائر بندی قائم رکھنے کے سلسلے میں اسرائیل کی جانب سے پیش کی گئی دو شرطوں کو مسترد کر دیا ہے۔

ان میں پہلی شرط سرحدی باڑ کے نزدیک ایک نو گو زون کا قیام ہے جہاں فلسطینیوں کا داخلہ ممنوع ہو اور دوسری شرط حملوں کے واسطے استعمال ہونے والی سرنگوں کی کھدائی کو روکنا ہے۔

حماس کی طرف سے ان شرطوں کو ماننے سے انکار ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی تنظیم فتح کا وفد قاہرہ کے دورے پر ہے جہاں وہ حماس تنظیم کے ساتھ مصالحت اور غزہ میں فائر بندی کے امور پر بات چیت کرے گا۔

وفد میں فتح تنظیم کی مجلس عاملہ اور مرکزی کمیٹی کے رکن عزام الاحمد، شہری امور کے وزیر اور فتح کی مرکزی کمیٹی کے رکن حسین الشیخ اور جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ ماجد فرج شامل ہیں۔

اس حوالے سے تنظیم آزادی فلسطین پی ایل او کی مجلس عاملہ کے سکریٹری صائب عریقات کا کہنا ہے کہ مصر اکتوبر 2017 کے معاہدے کے تحت فلسطینی قومی مصالحت کے واسطے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس تنظیم کے پاس اس معاہدے پر مکمل عمل درامد نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

غزہ پٹی میں فلسطینی گروپوں نے نومبر کے وسط میں مصر کی کوششوں سے اسرائیل کے ساتھ فائر بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل جنم لینے والی خطرناک جھڑپوں نے غزہ پٹی اور عبرانی ریاست کے درمیان جنگ بھڑکانے کا خطرہ پیدا کر دیا تھا۔