قطر کی جانب سے پھیلائی جانے والی تباہی پر دوحہ کا احتساب ہونا چاہیے: دحلان
فلسطینی قانون ساز کونسل کے رکن محمد دحلان کا کہنا ہے کہ قطر نے عرب دنیا میں جس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی اس پر احتساب کی ضرورت ہے۔ دحلان نے باور کرایا کہ وہ قطر کی جانب سے اپنے بارے میں پھیلائے جانے والی جھوٹی باتوں سے متاثر نہیں ہوتے۔
الحدث نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں دحلان نے کہا کہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی مصر پر حکم رانی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ، قطر اور ترکی پر لازم ہے کہ وہ اس امر کے ساتھ بقاء باہمی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ سعودی ولی عہد بھی اپنے منصب پر باقی ہیں۔
فلسطینی قانون ساز کونسل کے رکن کا کہنا تھا کہ قطر نے شروع سے ہی فلسطینی جانب کی تقسیم میں اپنا کردار ادا کیا۔ دحلان کے مطابق گزشتہ 9 برسوں کے دوران دوحہ نے اونروا ایجنسی )فلسطینیوں کی امداد کرنے والی بین الاقوامی ایجنسی( کو صرف 50 لاکھ ادا کیے۔
دحلان نے مزید کہا کہ قطر کی رقوم اسرائيلی وزارت دفاع کو منتقل ہوتی ہیں اور پھر وہاں سے فلسطینی تنظیم حماس تک پہنچتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مصالحت کا فیصلہ پہلے فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے کیا گیا۔
محمد دحلان نے فلسطیینی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کا رخ کریں جہاں عوام اُن کا بھرپور خیر مقدم کریں گے۔