ایرانی مداخلت دوسری بار وزیراعظم بننے میں آڑے آ گئی: العبادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے سابق وزیراعظم اور "النصر" سیاسی اتحاد کے سربراہ حیدر العبادی نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ "داعش تنظیم کے خلاف جنگ، فرقہ واریت کے خاتمے اور ملکی امن و امان اور سیادت کے حوالے سے ان کے دور میں یقینی بنائی جانے والی کامیابیوں کو بیرونی ایجنڈے کے تحت فرقہ وارانہ سیاسی کارکردگی پر مبنی عراقی سیاسی نظام پر زور دے کر قربان کیا جا رہا ہے"۔

پیر کے روز عربی روزنامے الشرق الاوسط سے گفتگو میں العبادی نے باور کرایا کہ "فرقہ وارانہ محاذوں پر صف بندیوں کے نتیجے میں ریاست کمزور کی جا رہی ہے، اس کی قدرت کو مفلوج بنایا جا رہا ہے اور ایک بار پھر ایسا ماحول جنم لے رہا ہے جو داعش جیسی تنظیم کو نمودار ہونے کے لیے سازگار ہو"۔

اس سے قبل اتوار کے روز العبادی نے انکشاف کیا تھا کہ عراقی حکومت کی تشکیل میں ایرانی مداخلت نے انہیں دوسری مرتبہ وزارت عظمی کے حصول سے دور کر دیا۔ ایک مقامی چینل "الشرقيہ" سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ تہران پر امریکی پابندیوں کے سلسلے میں ڈالر سے متعلق شق پر عمل کرنے کے سبب ،،، ایران میرے دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کی راہ میں حائل ہوا۔ ایرانیوں کو واقعتا مجھ سے خطرہ محسوس ہوا لہذا انہوں نے موجودہ وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی حمایت کی"۔

العبادی نے باور کرایا کہ "تہران پر امریکی پابندیوں کے حوالے سے میرا موقف واضح تھا کہ میں ان پابندیوں کے خلاف ہوں لیکن ساتھ ہی میں اپنے ملک کو خطرے میں ہرگز نہیں ڈالوں گا"۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں