سویڈن سمجھوتے کے بعد حوثیوں کی جانب سے دھمکیاں اور گرفتاری کی کارروائیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا نے سویڈن سمجھوتے پر عمل درامد اور الحدیدہ اور اس کی بندرگاہ سے انخلا کے بجائے عسکری جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس کی قیادت یمنی عوام اور یمنی حکومت کی سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے ممالک کے خلاف دھمکیاں دینے میں مصروف ہیں۔ الاریانی نے یہ بات ہفتے کے روز کی جانے والی اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہی۔

حوثی کمانڈر اور باغی ملیشیا کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی اتحادی ممالک کے خلاف دھمکی دے چکے ہیں۔ یہ دھمکی سویڈن سمجھوتے پر دستخط کے دو روز بعد سامنے آئی۔ سمجھوتے کے یمنی حکومت اور حوثیوں کے بیچ فائر بندی اور قیدیوں کا تبادلہ عمل میں آنا ہے۔

دوسری جانب دارالحکومت صنعاء میں سکیورٹی ذرائع اور مقامی آبادی نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا وسیع پیمانے پر قومی سلامتی کے انٹیلی جنس ادارے کے افسران کو گرفتار کر رہی ہے۔ حوثیوں کو ان افسران کی جانب سے اپنے خلاف بغاوت کا اندیشہ ہے۔

ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا کہ حوثی ملیشیا قومی سلامتی کے ادارے سے تعلق رکھنے والے بقیہ افراد کے گھروں پر اچانک چھاپے مار کر ان کے موبائل فون کی تلاشی لے رہی ہے۔ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ان میں سے درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں کو قوی اندیشہ ہے کہ قومی سلامتی کا ادارہ ان کے کنٹرول سے نکل جائے گا۔


U

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں