.

سویڈن سمجھوتے کے بعد حوثیوں کی جانب سے دھمکیاں اور گرفتاری کی کارروائیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا نے سویڈن سمجھوتے پر عمل درامد اور الحدیدہ اور اس کی بندرگاہ سے انخلا کے بجائے عسکری جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس کی قیادت یمنی عوام اور یمنی حکومت کی سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے ممالک کے خلاف دھمکیاں دینے میں مصروف ہیں۔ الاریانی نے یہ بات ہفتے کے روز کی جانے والی اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہی۔

حوثی کمانڈر اور باغی ملیشیا کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی اتحادی ممالک کے خلاف دھمکی دے چکے ہیں۔ یہ دھمکی سویڈن سمجھوتے پر دستخط کے دو روز بعد سامنے آئی۔ سمجھوتے کے یمنی حکومت اور حوثیوں کے بیچ فائر بندی اور قیدیوں کا تبادلہ عمل میں آنا ہے۔

دوسری جانب دارالحکومت صنعاء میں سکیورٹی ذرائع اور مقامی آبادی نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا وسیع پیمانے پر قومی سلامتی کے انٹیلی جنس ادارے کے افسران کو گرفتار کر رہی ہے۔ حوثیوں کو ان افسران کی جانب سے اپنے خلاف بغاوت کا اندیشہ ہے۔

ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا کہ حوثی ملیشیا قومی سلامتی کے ادارے سے تعلق رکھنے والے بقیہ افراد کے گھروں پر اچانک چھاپے مار کر ان کے موبائل فون کی تلاشی لے رہی ہے۔ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ان میں سے درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں کو قوی اندیشہ ہے کہ قومی سلامتی کا ادارہ ان کے کنٹرول سے نکل جائے گا۔


U