عراق: داعش کے 1400 مسلح ارکان اربیل سے بغداد کے حوالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں مشترکہ جوڈیشل کمیٹی کی تشکیل کے بعد کردستان ریجن کے حکام نے داعش تنظیم کے 1400 کے قریب گرفتار مسلح ارکان کو وفاقی حکومت کے حوالے کر دیا ہے۔

عراق میں کردستان ریجن کی حکومت کے ایک رابطہ کار دیندار زیباری نے ایک اخباری بیان میں بتایا کہ اربیل نے داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو بغداد کے حوالے کرنا شروع کر دیا ہے۔ رابطہ کار کے مطابق ان تمام افراد کا تعلق انبار، صلاح الدین اور دیالی صوبوں سے ہے اور بقیہ افراد کی حوالگی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

زیباری نے واضح کیا کہ ان تمام قیدیوں سے پوچھ گچھ جاری تھی اور ان میں سے کسی کے خلاف بھی کردستان کی عدالتوں نے کوئی فیصلہ جاری نہیں کیا تھا۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" نے اتوار کے روز جاری اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ داعش تنظیم سے تعلق کے سبب جو عرب گرفتار شدگان کردستان میں اپنی سزا پوری کر رہے ہیں انہیں یہ خطرہ لاحق ہے کہ رہائی کے بعد اگر ان لوگوں نے بغداد حکام کے زیر کنٹرول علاقوں میں اپنے اہل خانہ سے ملنے کی کوشش کی تو ان لوگوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا جائے گا۔

اس رپورٹ کے جواب میں زیباری کا کہنا ہے کہ اعلی عدالتی حکام کی جانب سے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور اس کی قیادت 3 اپیل کورٹس کے سربراہان کے پاس ہے۔

یاد رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے 11 نومبر کو ہونے والے اجلاس میں ایک کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے عدالتی فیصلہ جاری کیا تھا۔ کمیٹی میں عدالتی نگراں کمیٹی کے سربراہ اور مختلف صوبوں میں اپیل کورٹس کے سربراہان کو شامل کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی کا مقصد عراق کی مختلف عدالتوں کی جانب سے جاری فیصلوں پر عمل درامد کو یقینی بنانا اور ملزمان کے خلاف گرفتاری وارنٹس اور ان کی حوالگی پر عمل کروانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں