.

بشار حکومت نے منبج سے سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے انخلا کی تصدیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے تقریبا 400 جنگجو حلب کے شمالی دیہی علاقے منبج سے نکل کر دریائے فرات کے مشرق میں واقع علاقوں کی جانب جا چکے ہیں۔

شامی حکومت نے دعوی کیا ہے کہ یہ انخلا اُس معاہدے پر عمل درامد کے سلسلے میں سامنے آیا ہے جو شمالی شام میں معمول کی زندگی بحال کرنے کے لیے طے پایا تھا۔ تاہم مذکورہ معاہدے کے فریقوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

واضح رہے کہ امریکی فوج ابھی تک منبج شہر سے نہیں نکلی اور وہ شہر کے اندر اور اس کے اطراف گشت میں مصروف ہے۔ دوسری جانب منبج کے اطراف موجود بشار کی فوج نے شہر کے اندر اپنا پرچم لہرا دیا ہے اور وہ اس پر کنٹرول کا اعلان کرنے کے قریب ہے۔

ادھر ترکی کی فوج اور شامی اپوزیشن گروپوں کی فورسز منبج سے چند کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ یہ وہاں سے کُرد جنجگوؤں کے یونٹس کو نکالنے کے آپریشن کا سلسلہ ہے۔

لہذا امریکی فوج کے انخلا کے فوری بعد کئی فریق اس پر جھپٹنے کے لیے تیار ہیں جب کہ بعض توقعات کے مطابق امریکی انخلا جلد عمل میں نہیں آئے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ان کا بلک شام سے اپنی فوج کے انخلا کے بعد بھی وہاں کردوں کا تحفظ چاہتا ہے۔ بدھ کے روز وہائٹ ہاؤس میں کابینہ کے ایک اجلاس کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ "ہم ایک مقررہ عرصے کے دوران شام سے نکل جائیں گے"۔ تاہم انہوں نے اس عرصے کا تعین نہیں کیا۔ اگرچہ اخباری رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ یہ انخلا کا عمل تقریبا 4 ماہ طویل ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ انہوں نے انخلا کے لیے کبھی بھی چار ماہ کے عرصے کا تعین نہیں کیا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ "میں شام میں ہمیشہ نہیں رہنا چاہتا ،،، یہ ریت اور موت ہے"۔