تیونس: داعش سے منحرف نئی تنظیم "التوحيد و الجہاد" بریگیڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس میں داعش کی ہمنوا تنظیم جند الخلافہ سے منحرف ایک نئی دہشت گرد تنظیم کا انکشاف ہوا ہے جو ملک کے وسطی صوبے سیدی بوزید پر کنٹرول حاصل کر کے وہاں ایک شدت پسند امارت قائم کرنا چاہتی ہے۔

یہ انکشاف سکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک آپریشن کے دوران سامنے آیا۔ آپریشن کے نتیجے میں دو دہشت گرد خود کو دھماکے سے اڑا کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

تیونس کی وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق جمعرات کے روز سیدی بوزید کے قصبے جلمہ میں مارے جانے والے دونوں دہشت گردوں کا شمار "التوحید و الجہاد بریگیڈ" کے اہم ترین ارکان میں ہوتا ہے۔ یہ تنظیم "جند الخلافہ" نامی جماعت سے منحرف ہو کر تشکیل دی گئی ہے اور یہ "دہشت گرد کارروائیوں اور سکیورٹی گشتی دستوں اور سکیورٹی عمارتوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے"۔

ادھر انسداد دہشت گردی کے عدالتی ترجمان سفیان السلیطی کے مطابق آپریشن کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا دینے والے 27 سالہ دہشت گرد عز الدین العلوی "التوحيد والجهاد" بریگیڈ کا کمانڈر ہے۔ وہ دہشت گردی کے منصوبوں کا ماسٹر مائنڈ تھا جس نے سکیورٹی اہل کاروں کے خلاف مختلف کارروائیوں کے علاوہ سیدی بو زید پر کنٹرول اور وہاں ایک شدت پسند امارت کے قیام کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔

السلیطی نے بتایا کہ العلوی 2014 میں "جند الخلافہ" تنظیم میں شامل ہوا تھا۔ بعد ازاں وہ تنظیم سے علاحدہ ہو کر سیدی بوزید منتقل ہو گیا۔ اس دوران اس نے اپنے ساتھ دہشت گرد اور شدت پسند عناصر اکٹھا کرنے شروع کر دیے۔

خیال ہے کہ تیونس میں حالیہ عرصے میں ہونے والی بعض دہشت گرد کارروائیوں میں اسی گروپ کا ہاتھ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں