اسد رجیم پر یورپی سفارت کاروں کو دمشق میں داخلے سے روکنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کے تین سینیر سفارت کاروں نے کہا ہے کہ اسد رجیم نے یورپی سفارت کاروں اور امدادی کارکنوں کو اپنے ملک میں داخلے کے لیے ویزے جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سفارت کاروں اور دیگر کارکنوں کو روکنا جنگ زدہ علاقوں میں امدادی آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی منظم کوشش ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق یورپی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ بیروت اور دمشق کے درمیان باقاعدگی کے ساتھ سفر کرنے والے سفارت کاروں کو شامی حکومت نے ویزے جاری کرنے یا ان کی تجدید سے انکار کردیا ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2011ء سے شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران یورپی یونین شام کے قریب ہونے کی بناء پر بیروت کو شام میں داخلے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ شام میں احتجاجی مظاہروں اور جنگ وجدل کے باعث بیشتر سفارت خانے بند ہوچکے ہیں۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ رواں ماہ جنوری کے اوائل میں اسد رجیم نے یورپی مندوبین کو دمشق کےویزے جاری کرنے سے انکار کردیا تھا اور اس کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں‌کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسد رجیم کی طرف سے جاری کردہ ویزوں پر صرف ایک بارشام میں داخلہ ممکن ہے اور دوبارہ داخلے کے لیے اس کی تجدید کرانا ہوتی ہے۔

سفارت کاروں‌نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ اسد رجیم کی طرف سے سفارت کاروں کے دمشق میں داخلے پر پابندیاں یورپی ممالک کو دمشق میں اپنے سفارت خانے کھولنے کے لیے دبائو ڈالنے کی کوشش ہے۔ اسد رجیم یہ دعویٰ‌کررہی ہے کہ اس نے روسی فوج اور ایرانی ملیشیائوں کی مدد سے ملک کے بیشتر علاقوں پر اپنا قبضہ بحال کردیا ہے اور دنیا کو اب شامی حکومت کے ساتھ سفارتی تعطل ختم کردینا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں