یمن میں صنعاء یونیورسٹی کے طلبہ حوثیوں کی جنگ کا ایندھن
یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے ملک کو ایک بڑے قبرستان میں تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ملیشیا نے صنعاء یونیورسٹی کی دیواروں پر یونیورسٹی کے اُن طلبہ کی یادگاری تصاویر آویزاں کی ہیں جن کو حوثیوں نے لڑائی کے محاذ پر جھونک دیا تھا۔
یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے جمعرات کی شام نے مذکورہ دیواروں کی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے اس امر کو پریشان کن قرار دیا۔
اس منظر نامے پر تبصرہ کرتے ہوئے الاریانی نے کہا کہ "افسوس ناک بات ہے کہ بجائے یہ طلبہ ڈاکٹر، انجینئر اور وکلاء بن کر فارغ التحصیل ہوتے اور معاشرے کا اچھا جزو بنتے ،،، حوثی ملیشیا نے خطے میں ایرانی تخریبی ایجنڈے پر عمل درامد کرتے ہوئے ان طلبہ کو یمنی عوام پر مسلط بے مقصد جنگ کے اندر جھونک دیا ".
1-A shocking pictures for murals hanged by #Houthi_Militias in Sana'a University to revive the so called Martyr Day. The saddest is to see graduating students as doctors,engs & lawyers are being seduced rather than thrown in futile wars with Yemeni people to apply Iran's agenda. pic.twitter.com/JSAhbjc9zG
— معمر الإرياني (@ERYANIM) January 24, 2019
یاد رہے کہ حوثی ملیشیا نے صنعاء یونیورسٹی میں یہ تصاویر نام نہاد ہفتہ شہداء منانے کے دوران آویزاں کی ہیں۔
حوثیوں کے دور میں صنعاء یونیورسٹی علم کے منارے سے تبدیل ہو کر موت کا میدان بن چکی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس اس یونیورسٹی کے 100 طلبہ حوثیوں کی جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ان میں صرف کلیہ شریعہ کے 4 پی ایچ ڈی ڈاکٹریٹ شامل ہیں۔