بھارت اور سعودی عرب کے تاریخی تعلقات کا جائزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کی تاریخی برسوں پرمحیط ہے۔ دونوں دوست ملکوں کے درمیان طویل سیاسی، اقتصادی اور دفاعی روابط ہیں۔ سنہ 1947ء میں دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے اور مئی 1955ء کو شاہ فیصل پہلے سعودی فرمانروا تھے جنہوں نے بھارت کا دورہ کیا۔ سنہ 1956ء میں بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ ان دوروں نے دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں مضبوط تعاون کی بنیادیں رکھی گئیں۔

بھارت اور سعودی عرب کے درمیان گہرے تجارتی روابط موجود ہیں اور سعودی عرب بھارت کے لیے چوتھا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ نئی دہلی تیل کی 20 فی صد ضرورت سعودی عرب کے تیل سے پوری کرتا ہے۔ گذشتہ دو سال کے دوران بھارت میں سعودی برآمدات کا حجم ایک ارب 86 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگیا تھا۔

سعودی عرب میں 35 لاکھ بھارتی باشندے مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں۔سعودی عرب میں بھارتی باشندے کسی بھی دوسری کمیونٹی میں سب سے زیادہ ہیں۔ سال 2015ء میں بھارتی باشندوں نے 10 ارب 50 کروڑ کا زر مبادلہ اپنے ملک کو بھیجا۔ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی ثقافتی، تجارتی روابط کے ساتھ ساتھ گہرے سیاسی تعلقات بھی قائم ہیں۔ دونوں ملک ایک دوسرے کی خطے میں تزویراتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔

سنہ 1955ء کو سعودی فرمانروا شاہ فیصل نے بھارت کا دورہ کیا۔ اسی سال نومبر 1955ء کو شاہ سعود نے بھارت کا 17 دن کا طویل دورہ کیا۔ سنہ 1956ء کو بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو سعودی عرب گئے۔ سنہ 1981ء میں سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے نئی دہلی کا دورہ کیا اور سنہ 1982ء میں سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے ریاض کا دورہ کیا۔ سنہ 2006ء میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز بھارت کے دورے پر آئے اور 2010ء کو من موہن سنگھ نے سعودیہ کا دورہ کیا۔ سنہ 2014ء کو سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد کی حیثیت سے بھارت کا دورہ کیا جب کہ موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سنہ 2016ء اور 2018ء میں دو بار سعودی عرب کا دورہ کرچکے ہیں۔ اس وقت سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھارت کے دورپر ہیں۔

سنہ 2016ء کے دہلی اعلامیے اور 2010ء کے الریاض اعلامیے نے دونوں ملکوں کےدرمیان تجارتی، اقتصادی روابط اور سرمایہ کاری کی شراکت میں اضافہ کیا۔ سعودی عرب نے بھارت میں توانائی کے شعبے میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کی اور دونوں دوست ملکوں نے مشترکہ مفادات کے حصول کے سعودی عرب۔ بھارت مشترکہ مفادات کونسل قائم کر کے تعلقات کو مزید وسعت دی۔

سال 2017ء کے دوران دونوں ملکوں کا دو طرفہ تجارتی حجم 85 ارب سعودی ریال سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ بھارت میں سعودی عرب کی برآمدات کا حجم 67 ارب ریال جب کہ سعودی عرب میں بھارتی برآمدات کا حجم 18 ارب ریال تک جا پہنچا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں