ادلب میں تین روز میں اسد رجیم کے 20 فوجی ہلاک
شام کے جنگ زدہ علاقے ادلب میں گذشتہ تین روز میں مسلح جنگجوئوں اور اسد رجیم کی فوج کےدرمیان ہونے والے تصادم کے نتیجےمیں کم سے کم 20 سرکاری فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔
شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے 'سیرین آبزر ویٹری برائے انسانی حقوق' کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میںکہا گیا ہے کہ شمال مغربی شام میں تحریر الشام اور'حراس الدین' عسکری گروپوں کا اسدی فوج کے ساتھ تصادم ہوا جس میں کم سے کم 20 فوجی ہلاک ہوگئے۔
ادلب میں اسد رجیم کے خلاف مخالف جںگجو وں کا یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔ اس کارروائی میں جنگجوئوں کو بھی کافی جانی اور مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ادلب میں لڑائی شدت اختیار کرنے کے بعد مقامی شہریوں کا انخلاءبھی جاری ہے۔ گذشتہ برس ستمبر میں ترکی اور روس نے ادلب میں سیف زون کے حوالے سے ایک معاہدہ کیا تھا جس میں جنگجوئوں اور حکومت مخالف عناصر کو محفوظ راستہ دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کے مندوب رامی عبدالرحمان نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ اتوار کے بعد 'حراس الدین' اور 'ھیۃ تحریر الشام نامی گروپوں کے حملوں میں کم سے کم 20 سرکاری فوجی ہلاک ہوگئے۔ پانچ فوجی حلب میں ہونے والی لڑائی میں مارے گئے۔
ادھر شمالی شام میں شامی فوج کی بمباری کے نتیجے میں 9 شدت پسندوںکے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔
اسی سیاق میں سیرین آبزر ویٹری کے مطابق خان شیخون میں بمباری کے بعد ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔
-
شام : ادلب میں سخت گیر گروپ کے حملے میں اسد رجیم کے وفادار چار جنگجو ہلاک
شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں ایک سخت گیر گروپ نے ایک حملے میں اسد ...
بين الاقوامى -
ادلب میں فوجی کارروائی، شام اور ایران نے فوج جمع کرنا شروع کر دی
شام میں اپوزیشن کےآخری گڑھ ادلب میں اپوزیشن فورسزکے خلاف اسد رجیم، اس کے حلیف ...
مشرق وسطی -
شام : 22 روز کے وقفے کے بعد اِدلب پر روسی طیاروں کے حملے
شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کے مطابق روسی لڑاکا طیاروں نے ...
مشرق وسطی