.

اسرائیل اور روس شام سے غیر ملکی فورسز کے انخلا کے لیے تعاون کریں گے: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور روس شام سے غیر ملکی فورسز کے انخلا کے لیے مل جل کر کام کریں گے۔یہ بات اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے روس کے حالیہ دورے کے بعد اتوار کو ایک نشری بیان میں کہی ہے۔انھوں نے گذشتہ ہفتے کریملن میں صدر ولادی میر پوتین سے مذاکرات میں شام میں ایران کی موجودگی کے حوالے سے اسرائیل کے خدشا ت پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

صہیونی وزیر اعظم کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ شام میں گذشتہ آٹھ سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے بعد ایران اور اس کی حمایت یافتہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ اسرائیل کے خلاف نیا محاذ کھڑا کرسکتے ہیں۔

اسرائیل نے گذشتہ مہینوں کے دوران میں شام میں ایران اور حزب اللہ کے مبیّنہ اہداف کے خلاف سیکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔روس نے ان فضائی کارروائیوں پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے حالانکہ وہ ایران کا اتحادی ملک ہے۔ اس کی ستمبر 2015ء میں شام میں فوجی مداخلت کے بعد ہی جنگ کا پانسا پلٹا تھا ، صدر بشارالاسد کے اقتدار کی ڈوبتی ناؤ کو دوبارہ سہارا مل گیا اور وہ داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے زیر قبضہ بیشتر علاقوں کو واپس لینے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

نیتن یاہو گذشتہ ہفتے کریملن میں ولادی میر پوتین کے مہمان تھے ۔ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے روسی صدر پر دوٹوک انداز میں واضح کردیا تھا کہ شام میں ایران اور حزب اللہ کے اہداف پر اسرائیلی حملے جاری رہیں گے اور اسرائیل اور روس کی ملٹری ہاٹ لائن دونوں ملکوں کے درمیان حادثات سے بچنے کے لیے کام جاری رکھے گی۔

نیتن یاہو نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں کہا:’’ صدر پوتین اور میں نے ایک مشترکہ مقصد سے اتفاق کیا تھا اور وہ شام سے ان غیرملکی فورسز کو بے دخل کرنا ہے جو وہاں خانہ جنگی چھڑنے کے بعد آئی تھیں۔ہم نے اس مقصد کےلیے ایک مشترکہ ٹاسک فورس کے قیام سے اتفاق کیا ہے جو دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی‘‘۔

انھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی اور روس نے بھی اس حوالے سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔تاہم وہ ماضی میں شام سے دوسری فورسز کے انخلا کے بارے میں تو بیانات جاری کرچکا ہے لیکن وہ خود وہاں ایک طویل عرصے کے لیے فوجی اڈا برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

دریں اثناء روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کویت کی سرکاری خبررساں ایجنسی( کونا) سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ شامی فوج کی روس کی فضائی مدد سے کارروائیوں کے بعد سے شام میں صورت حال بہ ظاہر مستحکم ہوچکی ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وہاں سے دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کردیا گیا ہے‘‘۔ان کا اشارہ سخت گیر جنگجوؤں کے زیر قیادت باغیوں کی جانب تھا۔