.

القدس میں اسرائیلی چھاپوں پر فرانس کا تل ابیب سے احتجاج

پیرس میں تعینات اسرائیلی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں فرانسیسی کلچرل سینٹر میں خواتین کی ایک تقریب کا انعقاد روکنے کے لیے اسرائیلی فوج کی چھاپہ مار کارروائی پر فرانس نے صہیونی ریاست سے احتجاج کیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق فرانس میں متعین اسرائیل کے قائم مقام سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے ان سے فرانسیسی ثقافتی مرکز پر دھاوے پر احتجاج کی گیا۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں خواتین کے زیر اہتمام نمائش اور تقریب کا انعقاد روکنے پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مذمت کی اور انہیں خطرناک اور ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں ں ناقابل قبول اور ثقافتی سرگرمیوں پر حملہ کرنے کے مترادف ہیں۔ القدس میں ہمارا ثقافتی نیٹ ورک ہے اور ہم اسرائیل کو انتقامی کارروائیوں کی اجازت نہیں دیں گے پیرس میں تعینات اسرائیل کے قائم مقام سفیر کو طلب کر کے ان سے احتجاج کیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ القدس میں فلسطینی خواتین کے ساتھ مل کر ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینا کوئی جرم نہیں مگر صہیونی حکام القدس میں ثقافتی سرگرمیوں کے انعقاد کی راہ میں بھی آڑے آرہے ہیں۔ فرانس فلسطینی سوسائٹی کے ساتھ اپنے طویل المیعاد تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے اور اس کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے۔

خیال رہے کہ القدس میں قائم فرانسیسی کلچرل سینٹر میں 'القدس دوشیزائیں' نامی تنظیم کی طرف سے ایک تقریب کا انعقاد عمل میں لایا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج اس طرح کی سرگرمیوں کوغیر قانونی اور غیر مجاز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تقریب فلسطینی اتھارٹی کے مالی تعاون سے منعقد کی جا رہی تھی۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج پولیس نے جمعرات کو القدس میں قائم فرانسیسی کلچرل سینٹر میں قائم انسٹیٹیوٹ پر چھاپہ مار اور وہاں پر جمع ہونے والی خواتین کو زدو کوب کرنے کے بعد انہیں تقریب سے روک دیا۔ وہاں پر موجود فلسطینی شہری ایک نمائش کی بھی تیاری کر رہے تھی۔ قابض پولیس نے انہیں نمائش کے لیے کام کرنے سے روک دیا۔

اسرائیل مشرقی بیت المقدس میں فلسطینی اتھارٹی کےزیراہتمام ہونے والی کسی بھی سرگرمی کے انعقاد کو روکنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ فلسطینی تنظیم کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج نے تنظیم کی ڈائریکٹر انعام الشخشیر اور مالی معاون کار نرمین حجاوی کو حراست میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔