.

جبلِ باغوز میں ایس ڈی ایف اور داعش کی باقیات کے درمیان گھمسان کی لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں "العربیہ" کے نمائندے نے جمعے کی شب تاخیر سے یہ اطلاع دی کہ شام کے مشرقی علاقے باغوز میں سرنگوں کے اندر روپوش داعش تنظیم کے بچے کھچے ارکان اور علاقے میں موجود سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

ایس ڈی ایف کے میڈیا سینٹر کے ڈائریکٹر مصطفی بالی نے "العربیہ" نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ داعش تنظیم عسکری طور پر ختم ہو چکی ہے اور اب اس کا ایک گروپ باغوز کی چٹانوں میں روپوش ہے اور دوسرا دریائے فرات کے نزدیک مورچہ بند ہے۔ بالی کے مطابق داعش کے خلاف فتح کا اعلان چند گھنٹوں کا کھیل رہ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ داعش کی باقیات کے خاتمے کے لیے جبل باغوز کے گرد گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔

ادھر ایس ڈی ایف کے ترجمان عدنان عفرین کے مطابق ہتھیار ڈالنے سے انکار کرنے والی داعش کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں حملے کر رہی ہیں اور ایس ڈی ایف اس کا جواب دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہماری فورسز دباؤ ڈال رہی ہیں تا کہ وہ خود کو حوالے کر دیں یا پھر لڑائی کے ذریعے معاملہ ختم کر دیا جائے"۔

اس سے قبل جمعے کے روز ایس ڈی ایف نے جبل باغوز میں ایک سرنگ کا پتہ چلایا تھا جس کے اندر 400 کے قریب داعشی موجود ہیں۔ ان میں سے بعض نے خود کو حوالے کر دیا تھا۔

واشنگٹن کی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کے مطابق جمعے کے روز شام میں دریائے فرات کے کناروں پر محصور داعش کے جنگجوؤں کے آخری جتھے کے خلاف فضائی بم باری اور توپوں کی گولہ باری کا سلسلہ دوربارہ شروع کیا گیا۔

سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے باغوز قصبے میں داعش تنظیم کی باقیات کے خاتمے کے لیے گزشتہ ماہ نو فروری کو حملے کا آغاز کیا تھا۔

داعش کے زیر کنٹرول باغوز کا بچا کھچا علاقہ نکل جانے کا مطلب شمال مشرقی شام میں شدت پسند تنظیم کے کنٹرول کا خاتمہ ہو گا۔ اس سے قبل 2017 میں داعش کو عراق میں مکمل شکست کا سامنا ہو چکا ہے۔