اسرائیلی فوج کے غزہ میں غبارہ بم اڑانے والے دوگروپوں پر فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں دو فلسطینی گروپوں کے مبیّنہ ٹھکانوں پر ہفتے کے روز فضائی حملے کیے ہیں ۔اس نے ان پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے اسرائیل کی جانب غبارہ بم اڑائے تھے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ فوجیوں نے غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے سے اسرائیلی علاقے کی جانب دھماکا خیز مواد کے غبارے چھوڑنے والے ایک دہشت گرد ( فلسطینی مزاحمت کار) اسکواڈ کا سراغ لگا لیا تھا۔اس کے ردعمل میں ایک لڑاکا جیٹ نے ان کی جانب بم چلائے ہیں‘‘۔

صہیونی فوج نے ایک اور بیان میں کہا ہے کہ ایک طیارے نے ایک اور ’’ دہشت گرد اسکواڈ‘‘ کو اپنے حملے میں نشانہ بنایا ہے۔تاہم فوج نے اس امر کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا اس نے اپنے ’’ اہداف‘‘ کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا ہے۔البتہ فلسطین کے ایک سکیورٹی ذریعے نے کہا ہے کہ پہلے حملے میں دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ اہلِ غزہ جد ید اسلحے سے لیس صہیونی فوج کے مقابلے میں آتش گیر مواد والے غبارے یا پتنگیں اسرائیلی علاقوں کی جانب اڑاتے رہتے ہیں ۔ان کے پھٹنے سے کھیتوں میں کھڑی فصلوں کو آگ لگ جاتی ہے یا عمارتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایسے ہر حملے کا جواب دے گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فضائی حملوں میں 257 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔اس عرصے میں فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپوں میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔جمعہ کو سرحدی علاقے میں مظاہرین پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے دو الگ الگ واقعات میں دو فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔

گذشتہ روز قریباً دس ہزار فلسطینی مظاہرین نے اسرائیلی فوج کی چیرہ دستیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔آیندہ ہفتے کے رو ز 30 مارچ کو غزہ کے سرحدی علاقے میں اسرائیل کے محاصرے اور جبروتشدد کی کارروائیوں کے خلاف جاری اس تحریک کو ایک سال ہوجائے گا۔اس موقع پر غزہ میں حماس کے رہ نما اسماعیل ہنیہ نے لوگوں سے بڑی تعداد میں ریلی میں شرکت کی اپیل کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں