.

حوثیوں کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی دو ہزار خلاف ورزیاں، 110 شہری قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی سرکاری فوج کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے سویڈن میں طے پائے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ معاہدہ طے پانے کے بعد اب تک 1935 بار اس کی خلاف ورزی کی گئی جس کے نتیجے میں 110 شہری جاں بحق اور دسیوں زخمی ہوئے۔

العربیہ کے مطابق یمنی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر عبدہ عبداللہ مجلی نے بتایا کہ حوثی ملیشیا نے دسمبر2018ء میں سویڈن کی میزبانی میں طے پائے جنگ بندی معاہدے کی اب تک 1935 بار خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں 110 شہری جاں‌ بحق اور 613 زخمی ہوئے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

حکومتی فوج کے ترجمان نے کہا کہ سرکاری فوج جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہی ہے۔ حوثیوں کی طرف سے معاہدے کی پامالی کے باوجود صدر عبد ربہ منصور ھادی کی طرف سے فوج کو جنگ بندی سمجھوتے کی پاسداری کی ہدایت کی گئی ہے۔

مآرب گونری میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں بریگیڈیئر المجلی نے کہا کہ حوثی باغی عالمی سمندری حدود میں اپنے جنگجوئوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں کی تربیت فراہم کررہی ہے جس کے نتیجے میں عالمی جہاز رانی کو بھی شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

ترجمان نے حجۃ گورنری کے کشر ڈاریکٹوریٹ میں حوثیوں کے ہاتھوں شہریوں کے قتل عام کی تفصیلات بھی بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ 50 دنوں کے اندر حوچی باغیوں نے کشر میں انسانی حقوق کی 7921 پامالیاں کیں جس کے نتیجے میں 20 بچوں اور 30 خواتین سمیت 255 شہری جاں‌بحق اور 480 زخمی ہوگئے۔