سعودی عرب کا شہر "جبّہ" انسانی تاریخ کا ایک میوزیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے صوبے حائل میں واقع شہر "جبّہ" کو تاریخی ورثے کا حامل اور صحرائی سیاحت کا ایک اہم مقام شمار کیا جاتا ہے۔ پورے سال مملکت کے اندرون اور بیرون سے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اس شہر کا رخ کرتی ہے۔ مملکت میں سیاحت اور قومی ورثے کی جنرل اتھارٹی کی جانب سے اس شہر کو ترقی دی جا رہی ہے۔ سال 2015 میں اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسکو نے جبّہ کو اپنی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق جبہ شہر میں انسانی تاریخ کے قدیم مقامات موجود ہیں جن کا تعلق پتھروں کے دور سے ہے۔ اس کے علاوہ یہاں چٹانوں پر موجود نقوش بھی ہیں جن کو دیکھ کر سیاح قدیم زمانوں میں انسانی زندگی کا تعارف حاصل کر سکتے ہیں۔

جبہ میں آنے والے سیاحوں کو اطراف کے پہاڑوں کی چٹانوں پر بڑی تعداد میں ایسی تصاویر اور نقوش نظر آتے ہیں جن کو انسان نے مختلف زمانوں میں بنایا۔ علاوہ ازیں سیاحوں کو ایسے حجری اوزاروں کی جان کاری بھی ملتی ہے جن کو قدیم زمانے کے انسان نے اپنی بھرپور نوعیت کی تصاویر اور نقوش کندہ کرنے کے واسطے استعمال کیا۔

جبہ میں سیاحوں کے لیے اہم ترین نقش غالبا جبلِ "ام سنمان" اور جبلِ "غوطہ" میں نظر آنے والے وہ نقوش ہیں جن کا تعلق سات ہزار سال قبل مسیح سے ہے۔

جبلِ "ام سنمان" کی چٹانوں پر 5431 عمودی نقش اور مختلف جانوروں کی 1944 تصاویر ہیں۔ ان تصاویر میں 1378 میں مختلف حجم کے اونٹ دکھائے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں یہاں انسانی تصاویر کی تعداد 262 ہے۔

جبل ام سنمان اور جبل غوطہ کے نقوش اور خاکے اس علاقے میں واقع ہونے والی روز مرہ زندگی کا بھرپور تصور پیش کرتے ہیں۔ اس عرصے کو دو دورانیوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ان میں پہلے کا تعلق "سات ہزار سال قبل مسیح" سے ہے جس میں آدمی کو مکمل صورتوں میں ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف جانوروں کے خاکے اور تصاویر بھی پیش کی گئی ہیں۔ ان میں اونٹ، گھوڑا، بلی، بکرا اور شکار میں استعمال ہونے والے کتے شامل ہیں۔ جہاں تک دوسرے دورانیے کا تعلق ہے تو یہ "ثمودی دور" سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے نمایاں ترین خاکوں اور نقوش میں لڑتے ہوئے جنجگوؤں کو دکھایا گیا ہے۔ اس دوران مختلف درندے بھی موجود نظر آ رہے ہیں۔ ان کے علاوہ علامتی صورتیں اور کھجور کے درخت بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

جبہ شہر جزیرہ عرب کا دورہ کرنے والے مغربی مستشرقین کا ایک مرکزی مقام رہا ہے۔ اس کی وجہ اس شہر کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔ یہ شہر سفری قافلوں کے راستے میں پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ قدیم اقوام کے حوالے سے ایک تکنیکی میوزم کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ کھجور کے درختوں میں گھری تاریخی ورثے کی حامل اس کی عمارتیں سیاحوں اور آثار قدیمہ میں دل چسپی رکھنے والوں کے لیے انتہائی کشش کا مرکز ہیں۔ ان کے ذریعے پتھروں کے دور کے انسان کی زندگی کی جان کاری حاصل کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل سعودی عرب میں سیاحت اور قومی ورثے کی جنرل اتھارٹی نے جبہ شہر میں عمرانیاتی اور آثار قدیمہ سے متعلق مقامات کے حوالے سے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے ہیں۔ اس سلسلے میں راستوں کو پکا کرنے کے علاوہ مختلف مقامات پر رہ نمائی کے سائن بورڈز بھی نصب کیے گئے ہیں۔ یہ بورڈز وہاں نظر آنے والے آثار قدیمہ کے خاکوں اور نقوش کی تاریخ واضح کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں