سعودی عرب:موت کے گھاٹ اتارے گئے دہشت گردوں میں شامل "خالد الفراج" کون ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ دہشت گردی کی پاداش میں مملکت کے 37 شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ فنا کے گھاٹ اتارے جانے والوں میں خالد بن حمود الفراج بھی شامل ہے جسے القاعدہ تنظیم کے ڈاکیے کے طور پر جانا جاتا ہے۔

ابتدائی طور پر عدالت نے الفراج کے خلاف حدّ حِرابہ کے تحت قتل کی سزا سنائی تھی۔ الفراج پر الزام تھا کہ وہ اپنے والد اور کئی سیکورٹی اہل کاروں کی ہلاکت کا سبب بنا۔

الفراج کی کہانی کا تعلق 1424 ہجری سے ہے جب اسے ریاض کے علاقے السعادہ سے گرفتار کیا گیا۔ اس دوران القاعدہ کے کمانڈر کو الفراج کے پکڑے جانے کی خبر پہنچ گئی۔ اس کے بعد نمر البقمی نے (جس کو 1437 ہجری میں دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت دی گئی) الفراج کو بچانے کے لیے ایک ہنگامی منصوبہ بنایا۔ منصوبے کے تحت تخریب کاروں کے ایک گروپ کو مطلوب دہشت گرد فیصل الدخیل کی قیادت میں یہ مشن سونپا گیا۔ گروپ میں القاعدہ کا اہم کمانڈر عبدالعزیز المقرن، خالد بن سنان، بندر الدخيل، محمد الفراج، نمر البقمی اور تركی المطیری شامل تھے۔

گروپ نے الفراج کے گھر پر حملہ کر کے وہاں موجود سیکورٹی اہل کاروں پر شدید فائرنگ کر دی۔ اس کے نتیجے میں دو سیکورٹی اہل کاروں کے علاوہ خالد الفراج اور محمد الفراج کے والد جاں بحق ہو گئے۔

کارروائی کے دوران گروپ نے مزید تین سیکورٹی اہل کاروں کو موت کی نیند سلا دیا۔

خالد الفراج کے گھر سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود کی بھاری مقدار برآمد کی گئی۔

بعد ازاں خالد کے ساتھ تحقیقات کے نتیجے میں ریاض کے علاقے الروابی میں ایک بنگلے کے اندر دہشت گردی کے مشہور اڈے کا انکشاف ہوا۔ ظاہری طور پر یہ بنگلہ طبی کلینک کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔ تلاشی کے دوران وہاں سے کئی عدد پستول ، مشین گنیں، پمفلٹس اور طبی سامان برآمد ہوا۔

علاوہ ازیں الفراج نے ریاض کے علاقے السلی میں ایک ریسٹ ہاؤس کا پتہ بتایا جہاں ڈاٹسن کمپنی کی ایک گاڑی پائی گئی جو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکے کے لیے مکمل طور پر تیار تھی۔ اسی دوران آتش گیر کیمیکل سے تیار کی گئی شیشے کی بوتلیں، آتشی اسلحہ ، گولیاں اور گولہ بارود بھی قبضے میں لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں