.

حزب اللہ لبنان سرحد پر کارروائی کے وقت اتحادیوں سے کوئی رابطہ نہیں کرتی:وزیر خارجہ باسیل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گولان پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرکے ایک منفرد مثال قائم کردی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے وزیر خارجہ جبران باسیل نے کہا ہے کہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ ملک کے سرحدی علاقے میں جنگی کارروائیوں کے وقت اپنی اتحادی جماعت آزاد حب الوطن تحریک ( فری پیٹریاٹک موومنٹ ،ایف پی ایم) سے کوئی رابطہ نہیں کرتی ہے اور وہ خود ایک سے زیادہ مرتبہ یہ کہہ چکی ہے کہ وہ کسی کارروائی سے قبل لبنان کی کسی جماعت کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کرتی ہے لیکن مسئلہ یہ نہیں بلکہ سرحدی امور لبنانی حکومت کی ذمے داری ہے اور حزب اللہ اس کا حصہ ہے۔

جبران باسیل نے یہ باتیں العربیہ کی نمایندہ ریما مکتبی سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہیں۔وہ ایف پی ایم کے سربراہ ہیں ۔ ان کی جماعت حزب اللہ کے ساتھ وزیراعظم سعد حریری کی قیادت میں مخلوط حکومت میں شریک ہے۔ حزب اللہ کے عسکری اور سیاسی بازووں کو امریکا ، سعودی عرب ، مشرقِ اوسط کے متعدد ممالک اور بعض یورپی ممالک نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ برطانیہ نے فروری میں اس کے تمام شعبوں کو دہشت گرد قرار دینے کا اعلان کیا تھا اورا س پر مشرقِ اوسط کے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

لبنانی وزیر خارجہ نے اس انٹرویو میں حزب اللہ کے عسکری اور سیاسی کردار ، ایران کی مالی معاونت ، مخلوط حکومت ، امریکا کے مشرقِ اوسط میں کردار اور حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام کے علاقے گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرنے سے متعلق اعلان ، لبنان کے دفاع اور سرحدی امور اور دیگر علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔

انھوں نے امریکی صدر کے گولان کی چوٹیوں سے متعلق اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’انھیں ایک ملک ( شام) کی سرزمین کو دوسرے ملک ( اسرائیل) کو دینے کا حق کس نے دیا ہے؟ اس طرح تو انھوں نے بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد اور خطرناک مثال قائم کردی ہے کہ امریکی صدر جب چاہے اس قسم کا اعلان کرسکتا ہے لیکن بعض ممالک ان کےا س فیصلے کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور انھوں نے اس کو مسترد کردیا ہے‘‘۔انھوں نے کہا کہ گولان کی چوٹیوں کے ساتھ واقع شبعا فارمز لبنان کا علاقہ ہیں۔ہم اس کو واگزار کرانے کے لیے جو کچھ بن پڑا ،کریں گے۔یہ اس کا حق ہے اور ہم اس کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں داعش کے خلاف الجرود جنگ کے دوران میں لبنانی فوج نے شبعا فارمز اپنے ملک کا جھنڈا لہرایا تھا۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ لبنان کے شام کے ساتھ خصوصی تعلقات استوار ہیں کیونکہ یہ دوستانہ تعلقات ہیں اور اگر یہ خصوصی نہ ہوتے تو یہ دوستانہ بھی نہ ہوتے ۔ہم سفارت خانوں اور دوستانہ تعلقات کے ذریعے ایک دوسرے کو قبول کرنے پر مبنی تعلقات استوار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

انھوں نے تجویز پیش کی کہ ان تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شام اور لبنان کے درمیان حد بندی ہونی چاہیے ، سرحدوں کا تعیّن ہونا چاہیے اور شبعا کے علاقے کو لبنان میں شامل کیا جانا چاہیے۔انھوں نے کہا:’’ میں آپ کو بتاتا ہے کہ جو جماعت اس ضمن میں کوششیں کررہی ہے اور شبعا فارمز کو لبنان کا حصہ بنانا چاہتی ہے، وہ حزب اللہ ہے ۔اس کے شام کے ساتھ خصوصی تعلقات استوار ہیں‘‘۔

انھوں نے عرب ممالک اور امریکا کے درمیان ٹرمپ انتظامیہ کے مجوزہ امن منصوبے پر بات چیت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’’ ہم نے اس منصوبے کے بارے میں ویسے تو بہت کچھ سن رکھا ہے لیکن ہمیں باضابطہ طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔ اس مجوزہ منصوبے کا پہلا متعلقہ متاثرہ فریق فلسطینی ہیں اور انھوں نے اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔مجوزہ ڈیل کے حوالے سے جو کچھ افشا کیا گیا ہے ،اس کے پیش نظر یہ نہیں کیا جاسکتا کہ اس سے امن ممکن ہوجائے گا ۔ہم یہ امید کرتے ہیں کہ یہ ڈیل انصاف کے اصولوں پر مبنی ہوگی تاکہ اس سے حقیقی امن کا حصول توازن کے ساتھ ممکن ہوسکے۔

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ان کی جماعت کا 2006ء میں لبنان کے دفاع کے لیے حزب اللہ کے ساتھ ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔یہ لبنانی ریاست کے تصور پر مبنی تھا اور اس کے تحت ریاست کے دفاع کی ذمے داری حکومت پر عاید ہوتی ہے۔لبنان ، اس کی حکومت ، ریاست اور عوام اسرائیل کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے ہیں بلکہ وہ اپنی سرزمین ، سرحدوں اور وسائل کو اسرائیلی جارحیت سے بچانا چاہتے ہیں۔اگر لبنان پر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو وہ اپنا دفاع کرے گا۔ہم علاقائی خود مختاری اور وقار کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔

ریما مکتبی نے جب ان سے لبنان کے خلیجی ممالک ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سوال کیا تو جبران باسیل نے بتایا :’’ ہم ان ممالک سے ایک زیادہ وجوہ کی بنا پر اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں کیونکہ یہ تعلقات لبنان اور خلیجی ممالک کے مفاد میں ہیں ۔ خلیجی ممالک کی تعمیر وترقی میں لبنانی تارکینِ وطن اہم کردار اد کررہے ہیں۔

پڑوسی ملک شام کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ لبنان اس کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے کوشاں ہے اور لبنانی صدر میشعل عون نے حال ہی میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں اس ضمن میں آواز بھی اٹھائی تھی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ شام کی عرب دھارے میں واپسی خود لبنان ، شام اور عرب لیگ کے مفاد میں ہے۔تاہم جہاں تک میرا بہ طور وزیر خارجہ شامیوں سے روابط کا سوال ہے تو اب تک میرے ان سے کوئی ایسے روابط استوار نہیں ہوئے ہیں لیکن میری بات یاد رکھیے کل کلاں ایک دن ایسا آئے گا جب تمام عرب ممالک ہی شام کی عرب لیگ میں واپسی کے خواہاں ہوں گے کیونکہ شام اور عرب دنیا کا ایک دوسرے کو قبول کرنا دونوں کے مفاد میں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ لبنان کی معیشت پر شامی مہاجرین کا بوجھ تو ضرور پڑا ہے لیکن یہ معیشت تباہی کے کنارے نہیں کھڑی ہے ، ہم نے اس کی بحالی کے لیے درکار اقدامات کیے ہیں ۔ جب کسی بیماری کا درست طبی علاج کیا جاتا ہے تو اس سے ضرور افاقہ ہوتا ہے ۔ہمیں اپنی معیشت کی بحالی اور اس کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے اصلاحات کرنا ہوں گی۔

جبران باسیل میرونائٹ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ لبنانی آئین کے تحت ملک کا صدر میرونائٹ مسیح ہوتا ہے۔ ان سے اس حوالے سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ کسی روز ملک کے صدر ہوسکتے ہیں یا ان کی یہ خواہش ہے کہ وہ اس اہم عہدے پر فائز ہوں؟اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جب تک جنرل عون صدارت کے منصب پر فائز ہیں تو وہ ہرگز بھی اس موضوع پر گفتگو نہیں کرنا چاہتے ہیں۔اس لیے یہ مناسب نہیں لگتا کہ اس موضوع پر قبل از وقت کوئی بات کی جائے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ لبنان میں عیسائیوں کے بارے میں کسی تشویش میں مبتلا ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ مجھے مسلمانوں کے بارے میں بھی برابر تشویش لاحق ہے ۔ جب نیوزی لینڈ میں گذشتہ ماہ دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوا تھا تو اس سے مجھے گہرا صدمہ پہنچا تھا اور جب ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں دہشت گردی کے حملے ہوئے ہیں تو مجھے ان میں ہونے والے جانی نقصان پر بھی دکھ ہوا ہے۔ دراصل اس طرح کی انتہا پسندی سے ایک اور شکل کی انتہا پسندی ہی جنم لے سکتی ہے۔مجھے یقین ہے کہ ہم فرقوں اور مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔اس طریقے سے ہی ہم اپنے باہمی مفادات کا تحفظ کرسکتے ہیں۔