.

اسرائیل کی غبارہ حملے کے بعد غزہ میں حماس کی فوجی تنصیب پر فضائی بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی سے آتش گیر مواد لے جانے والے غباروں کے حملے کے بعد حماس کی ایک فوجی تنصیب پر فضائی بمباری کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس فضائی حملے کے بعد غزہ کی پٹی سے اسرائیل کی جانب دو راکٹ بھی فائر کیے گئے ہیں لیکن ان سے کسی قسم کے نقصان کی کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔

اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے شمال میں حماس کے ایک مبیّنہ فوجی کمپاؤنڈ کو حملے میں نشانہ بنایا تھا ۔تاہم اس میں بھی کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

واضح رہے کہ غزہ میں فلسطینی مزاحمت کار اسرائیلی فوج کی جارحیت کے ردعمل میں غباروں کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور وہ ان کے ذریعے اسرائیل کے سرحدی علاقے کی جانب آتش گیر مواد بھیجتے رہتے ہیں جن کے پھٹنے سے اسرائیلی املاک کونقصان پہنچتا ہے اور ان سے زرعی زمینوں میں کھڑی فصلوں کو آگ لگ جاتی ہے۔

مصر اور اقوام متحدہ کی ثالثی کے نتیجے میں طے شدہ جنگ بندی کے نتیجے میں اسرائیل میں 9 اپریل کو منعقدہ پارلیمانی انتخابات کے موقع پر صورت حال پُرامن رہی تھی لیکن اب پھر اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ اقدامات کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ اس نے منگل کے روز غزہ کی بحری ناکا بندی مزید سخت کردی ہے اور فلسطینی مچھیروں کے لیے بحر متوسط میں آبی حدود کو مزید محدود کردیا ہے۔اب وہ اپنی کشتیوں کو مچھلیوں کے شکار کے لیے اسرائیلی فوج کی مقرر کردہ نئی آبی حدود سے باہر نہیں لے جاسکتے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے یہ اقدام بحر متوسط میں ایک راکٹ گرنے کے بعد کیا ہے۔اس نے حماس کی اتحادی مزاحمتی تنظیم جہادِاسلامی پر اس راکٹ حملے کا الزام عاید کیا ہے۔