.

عرب لیگ کا سربراہ اجلاس خطے میں ایرانی مداخلت کی مذمت کے ساتھ اختتام پذیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیزآل سعود نے جمعرات کی شب شروع ہونے والے عرب سربراہ اجلاس کے اختتام کا اعلان کردیا ہے۔ مکہ معظمہ میں ہونے والےعرب لیگ کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں خطے میں ایرانی مداخلت کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کے آخر میں جاری کردہ اعلامیے میں ایرانی مداخلت کے خلاف مشترکہ کوششیں‌ جاری رکھنے سے اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں مسئلہ فلسطین سے متعلق عالمی قرار دادوں پرعمل درآمد زور دیا گیا۔

اعلامیے میں شام کے بحران میں ایرانی مداخلت کی مذمت کی گئی اور شام کی وحدت اور خود مختاری کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔ اعلامیے میں متحدہ عرب امارات کے تین جزیروں‌ پر ایران کے غاصبانہ قبضے کی بھی مذمت کی گئی۔ ایران کی طرف سے بحرین کے اندرونی معاملات میں مداخلت، دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی، عرب ممالک پر بیلسٹک میزائل حملوں اور یمن کے حوثی باغیوں‌ کی طرف سے سعودی عرب پر دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔

اعلامیے پرعرب لیگ کے رکن ملک عراق نے اعتراض کیا۔

خیال رہے کہ عرب لیگ کا سربراہ اجلاس جمعرات کی شام سعودی عرب کی میزبانی میں‌ مکہ معظمہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں‌ تمام عرب ممالک کی قیادت نے شرکت کی۔

اجلاس سے افتتاحی خطاب میں سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ہنگامی اجلاس بلائے جانے کی غرض وغایت بیان کی۔ انہوں‌ نے ایران کی دہشت گردانہ سرگرمیوں، خطے اور عالمی امن کو نقصان پہنچانے کی سازشوں کے سدباب پر زور دیا۔

اجلاس سے خطاب میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ خلیجی ممالک کی سلامتی مصر کی قومی سلامتی کے مترادف ہے۔ انہوں‌ نے کہا کہ عرب ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں‌ دی جائے گی۔ خلیجی ممالک کو خطرے کی صورت میں مصر اپنے خلیجی بھائیوں کی ہرممکن مدد کرے گا۔ انہوں‌ نے کہا کہ عرب قیادت نے ہمیشہ امن اور استحکام کی بات کی۔ ہم یہاں اس لیے جمع ہیں تاکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرسکیں۔

اجلاس سے خطاب میں اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ تمام عرب ممالک کے مفادات ایک ہیں اور ہم تمام عرب بھائیوں کے ساتھ مل کر اپنے مفادات کا دفاع کریں‌ گے۔ اُنہوں‌ نے کہا کہ عرب لیگ کا اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب ہمیں ایک موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

عراق کے صدر برہم صالح نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی عراق کی سلامتی کے مترادف ہے۔ انہوں‌ نے کہا کہ خلیج کی سلامتی کو نقصان پہنچانا عرب اور مسلمان ممالک کی سلامتی کو گزند پہنچانے کے مترادف ہے۔ ہمارے خطے کو ایک دوسرے کے احترام اور عدم مداخلت کی اشد ضرورت ہے۔

کویت کے امیر الشیخ صباح الاحمد الجابر الصباح نے عرب لیگ کے اجلاس کو موجودہ حالات میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ انہوں‌ نے کہا کہ اس وقت خلیجی خطہ کشیدگی کی لپیٹ میں‌ ہے۔ ہم پہلے سے زخم رسیدہ ہیں اور کسی نئی جنگ کے متحمل نہیں‌ ہو سکتے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے خلیجی ممالک پر حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ سعودی عرب اور خلیج میں تیل تنصیبات پر حملے ناقابل قبول ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کی سلامتی عربوں کی قومی سلامتی کے ساتھ لازم وملزوم ہے۔

اجلاس سے موریتانیہ کے صدر محمد ولد عبدالعزیز، عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط اور دیگر عرب رہ نمائوں‌ نے بھی خطاب کیا۔