یمن کے اسپتالوں میں حوثی باغیوں کی لاشوں کے انبار لگ گئے
یمن کی وسطی شہر الضالع میں سرکاری فوج اور عرب اتحادی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں ایران نواز حوثی جنگجوئوں کی بڑی تعداد ہلاک ہو گئی ہے جس کے بعد اسپتالوں میں لاشوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔
وسطی یمن شہر ذمار کے تین اسپتالوں میں مقتول حوثی باغیوں کی 12 لاشیں لائی گئی ہیں۔ ان میں حوثیوں کی طرف سے بھرتی کیے گئے متعدد بچوں کی لاشیں بھی شامل ہیں۔ یہ لاشیں الضالع سے ذمار کے اسپتالوں کے سرد خانوں میں رکھی گئی ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع کے مطابق مقتول حوثی جنگجوئوں کی لاشوں میں کیپٹن کے عہدے کا ایک حوثی عہدیدار جابر مہدی البحش بھی شامل ہے۔ جمعہ کے روز ذمار کے اسپتالوں میں منتقل کی گئی حوثی جنگجوئوں کی لاشوں کی شناخت جابر مہدی البحش، محمد عبداللہ السدعی، عبدالرزاق الکبسی، جہاد دوبع، حلمی فہد غرفہ، شہاب الدین عبدالجلیل العنسی، الرمیم عبدہ الرمیم، محمد عبداللہ الحکمی، عبدالسلام غالب الحرازی اور مجدالدین حسین المنقذی کے ناموں سے کی گئی ہے۔
ادھر ذمار شہر کے مغرب میں حوثیوں کے سیکورٹی سپروائزر فواز عبداللہ عبدہ الجعدبی المعروف ابو مروان الجعدبی نے 45 سالہ عبدہ مصلح النقذی اور اس کے دو بیٹوں 13 سالہ عصام عبدہ مصلح اور 11 سالہ مجیب عبدہ مصلح کو گولیاں مارنے کے بعد زخمی کیا۔ بعد ازاں انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی کمانڈر کی اندھا دھند فائرنگ سے ایک شہری، اس کے دو بیٹے اور پانچ دیگر شہری مختار احمد علی، جمیل المجمر، طارق یحییٰ سعد طلحہ، فواد محمد خالد الاحجور اور طارق یوسف ابراہیم زخمی ہوگئے۔ انہیں بوصاب العالی کے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔