.

امریکی نمائندے سے ایرانی خطرے پر روک لگانے سے متعلق بات چیت ہوئی ہے: خالد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایرانی امور کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے برائن ہاک کے ساتھ اُن کوششوں پر بات چیت کی ہے جن کا مقصد خطے کے امن و استحکام کے لیے ایرانی خطرے پر روک لگانا ہے۔ خالد بن سلمان نے زور دیا کہ سعودی عرب دہشت گرد کارروائیوں کے سبب ایران پر امریکا کی سخت پابندیوں کی حمایت کرتا ہے۔

جمعے کے روز عربی اور انگریزی زبانوں میں کی گئی ٹویٹس میں شہزادہ خالد نے مزید کہا کہ "امریکا کے خصوصی نمائندے کے ساتھ ایران کی اُن کارستانیوں کو بھی زیر بحث لایا گیا جو وہ یمن میں دہشت گردی پھیلانے کے حوالے سے کر رہا ہے۔ ایران یمنی عوام کے حوالے سے تمام تر پہلوؤں کو فراموش کر بیٹھا ہے"۔

اس سے قبل جمعرات کے روز سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے کہا کہ "ان کا ملک ایرا ن کے ساتھ کوئی جنگ نہیں چاہتا ہے۔ تاہم اگر ایران آبنائے ہُرمز کو بند کرتا ہے تو اس کو نہایت سخت ردّ عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمیں خطے میں سکون کی ضرورت ہے مگر ہم ایران کی جانب سے وسیع پیمانے پر اذیت کے ساتھ اس کو ممکن نہیں بنا سکتے"۔

انہوں نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ "سعودی عرب ایران کے خلاف جنگ نہیں چھیڑنا چاہتا البتہ عالمی برادری ایران کے جارحانہ کردار پر روک لگانے کے لیے پُرعزم ہے"۔

الجبیر نے باور کرایا کہ سمندری جہاز رانی کے راستے پر ایران کے حملے دنیا پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔