حوثی ملیشیا کی دہشت گردی سے بے زبان جانور بھی غیرمحفوظ

حوثیوں کا جانوروں کے ساتھ بارود باندھ کرحملوں کا غیرانسانی حربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا اپنے جرائم کی تکمیل کے لیے بے زبان جانوروں کو بھی ایک نئے اور غیر انسانی حربے استعمال کرنے لگی ہے۔ حال ہی میں حوثیوں‌ نے ملک کے مغربی ساحلی علاقے الحدیدہ میں خون خرابے کے لیے ایک اونٹ پر بارود باندھ کر حملے کی کوشش کی گئی۔

یمن کے عسکری ذرائع نے خبردار کیا ہےکہ حوثی ملیشیا جانوروں کو دہشت گردی کے مجرمانہ مقاصد کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔ جانور حوثیوں کے ہاتھ میں ایک نیا حربہ ہیں اور وہ جانداروں کو متحرک بموں کے طور پراستعمال کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کےمطابق ہفتے کی شام الحدیدہ شہرمیں ایک اونٹ دھماکہ خیز مواد سے پھٹ گیا۔ یہ بارود حوثی ملیشیا کی طرف سے اس اونٹ پر لادا گیا تھا۔ تحقیق کرنے سے پتا چلا کہ حوثی ملیشیا نے اونٹ کو اپنے دہشت گردانہ عزائم کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس سے قبل حوثی ملیشیا بارودی سرنگوں کے لیے پتھروں اور کنکریٹ کے بلاک کی شکل کے بم تیار کرکے راستوں اور درختوں کے نیچے بچھاتی رہی ہے۔اسی طرح کھجور کے تنوں کی شکل کے بم کھجورکے باغات میں نصب کرکےدہشت گردی کی کارروائیاں کی جاتی رہیں۔

یمن کے عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا نے ایک چھکڑے کے آگے اونٹ باندھ کر اسے الحدیدہ میں شاہراہ خمسین پر ایک نقطہ تماس میں متمرکز مشترکہ مزاحمتہ مرکز کو دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ حوثیوں کی طرف سے چھوڑے گئے خود کش اونٹ پر بارودی مواد کو ریمورٹ کنٹرول کی مدد سے تباہ کیاگیا۔

حال ہی میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم'ہیومن رائٹس واچ' کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں‌کہا گیا تھا کہ حوثیوں‌نے مغربی ساحلی علاقوں‌میں سنہ 2017ء سے بڑے پیمانے پر بارودی سرنگیں نصب کر رکھی ہیں جس کے نتیجےمیں ایک طرف تو سیکڑوں شہری ان بارودی سرنگوں کے پھٹنےسے جاں‌بحق اور زخمی ہوچکےہیں اور دوسری طرف امدادی آپریشن آگے بڑھانے میں امدادی اداروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں