.

مشرق وسطیٰ سے متعلق کانفرنس بحرینی دارلحکومت مناما میں شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرق وسطیٰ میں امن اور خوش حالی کے حوالے سے دو روزہ کانفرنس آج بروز منگل بحرین کے دارالحکومت مناما میں شروع ہو رہی ہے۔

مراکش کی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ معیشت اور خزانے کی وزارت کا ایک وفد کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ بیان کے مطابق یہ شرکت مراکش کے اُس ٹھوس موقف کی دلیل ہے جس کے تحت وہ دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔ اس حل میں ایک خود مختار اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے۔ یہ ریاست جون 1967 کی سرحدوں میں بنے گی اور اس کا دارالحکومت مقبوضہ مشرقی بیت المقدس ہو۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کانفرنس میں متعدد عرب، افریقی اور یورپی ممالک کے علاوہ کئی علاقائی اور بین الاقوامی تنظیمیں بھی شرکت کر رہی ہیں۔

کانفرنس کا پہلا مرحلہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے ساتھ شروع ہو گا۔ اس کے بارے میں وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری یقینی بنانے کی کوشش ہے۔

منصوبے کے تحت عطیہ دینے والے ممالک اور سرمایہ کار خطے میں تقریبا 50 ارب ڈالر کی امداد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان میں 28 ارب ڈالر فلسطینی اراضی کے لیے (مغربی کنارا اور غزہ پٹی)، 7.5 ارب ڈالر اردن کے لیے ، 9 ارب ڈالر مصر اور 6 ارب ڈالر لبنان کے لیے ہوں گے۔

مجوزہ 179 منصوبوں میں مغربی کنارے کو غزہ پٹی سے ملانے والا ایک راستہ بھی شامل ہے جس پر پانچ ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نقشوں اور اعداد وشمار کی مدد سے مذکورہ منصوبہ پیش کریں گے۔ اس کو "نقشہ عمل" کا نام دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ کوشنر امریکی صدر کے ایک سینئر مشیر اور ان کے داماد ہیں۔ وہ نیویارک میں پراپرٹی کے میدان سے تعلق رکھتے ہیں۔