.

سعودی عرب میں بلند چوٹی پر ایستادہ منفرد تاریخی قلعے کی مرمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے سرحدی علاقے عسیر کی ایک بلند وبالا پہاڑی چوٹی پر 2 صدیوں سے موجود آل ابو سراح کے قلعوں میں سے ایک تاریخی قلعے "وازع وعزیز" کی مرمت کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ سعودی عرب کی 'السودہ' پہاڑی چوٹی کے برابر العزیزہ گائوں میں موجود یہ قلعہ تاریخی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو قریبا دو سو سال پہلے تعمیر کیا گیا تھا۔

قلعے کی مرمت کا بیڑا ایک مقامی نوجوان عبدالعزیز ابو سراح اور قلعہ تعمیر کرنے والے لاحق بن احمد ابو سراح کے پوتے نے اٹھایا۔ سرسبز وشاداب علاقے میں وسیع رقبے پر پھیلے قلعے کی مرمت کے بعد اسے جلد سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا جائے گا۔ یہ قلعہ پرانا ہونے کے باوجود اپنی مخصوص پینورامک خصوصیات کی وجہ سے غیر معمولی شہرت رکھتا ہے۔

ابو سراح کا نے بتایا کہ وہ اگست کے اوائل میں قلعے کو زائرین کے لیے کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قلعہ کی مرمت ورلڈ بنک اور مملکت کے محکمہ قومی سیاحت کے اشتراک سے کیا گیا۔ انہوں‌ نے بتایا کہ عسیر کی پہاڑی چوٹی پر موجود یہ قلعہ بڑے ہوٹل، کلچرل میوزیم، دستاویزی نمائش اور ایک اسٹوڈیو پر مشتمل ہے۔

عسیر کے علاقے میں یہ قلعہ نہ صرف سب سے بڑا بلکہ اپنے فن تعمیر کے اعتبار سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ اسے 180 سال قبل اس دور کے فن تعمیر کے مطابق تعمیر کیا گیا۔ چھ منزلہ قلعہ میں ایک تین منزلہ مسجد بھی ہے اور اس کے اطراف میں بعض دوسری عمارتیں بھی قلعے کی عظمت رفتہ کی گواہی دیتی ہیں۔

سعودی سماجی کارکن عبدالعزیز ابو سراح کا کہنا ہے کہ قلعے کی مرمت کا مقصد وطن عزیز میں موجود تاریخی عمارتوں اور پرانے فن تعمیر کے نمونوں کو تحفظ دینا ہے۔ قلعہ کی مرمت کے لیے جدید وسائل کو استعمال کرکے اسے مزید کئی سو سال کے لیے محفوظ کرلیا گیا ہے۔ انہوں‌ نے توقع ظاہر کی عسیر کی پہاڑی چوٹی پر موجود یہ قلعہ زائرین اور سیاحوں کے لیے ایک پرکشش سیاحتی مقام ہو گا۔

ابو سراح نے کہا کہ عسیر میں آنے والے زائرین اور سیاح نہ صرف اس قلعے کی خوبصورتی اور اس کی سیر سے لطف اندوز ہوں‌ گے بلکہ وہ اس علاقے کے قدرتی حسن وجمال، اس کی بلندی اور پہاڑی چوٹیوں سے بھی ضرور متاثر ہوں گے۔

خیال رہے کہ قدیم انسانی تہذیبوں میں قلعوں کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ زیادہ تر قلعے دفاعی مقاصد کے لیے تعمیر کیے جاتے رہے ہیں۔ تاریخی قلعوں کے اعتبار سے سعودی عرب کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔