یمن : خطے میں سب سے بڑی ماحولیاتی تباہی کے حوالے سے وارننگ
یمن میں حکومت نے ایک بار پھر بحر احمر میں تیل کے ضخیم رساؤ کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ اس کی وجہ حوثیوں کا ایک تیل بردارجہاز کی مرمت کے کام میں رکاوٹیں ڈالنا ہے۔ جہاز میں دس لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل لدا ہوا ہے۔
یمنی کابینہ کی پریذیڈنسی کی جانب سے ٹویٹر پر ایک معلوماتی وڈیو پوسٹ کی گئی ہے۔ وڈیو میں باور کرایا گیا ہے کہ مذکورہ آفت کے جنم لینے پر سمندری زندگی اور ساحل کے کنارے واقع ممالک کو ایک بڑے خطرے کا سامنا ہو گا۔
علاوہ ازیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یمنی حکومت کئی بار اقوام متحدہ سے مخاطب ہو کر مطالبہ کر چکی ہے کہ حوثی ملیشیا پر دباؤ ڈالا جائے تا کہ راس عیسی کی بندرگاہ پر موجود "صافر" آئل ٹینکر کا معائنہ اور اس کی مرمت ممکن بنائی جا سکے۔
وڈیو کے مطابق مذکورہ تیل بردار جہاز کا وزن 4.10 لاکھ ٹن ہے۔ اس کے اندر دس لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل موجود ہے اور 4 سال سے زیادہ عرصے سے اس کی دیکھ بھال اور مرمت نہیں ہوئی۔
اسی طرح یہ باور کرایا گیا ہے کہ تیل کے رساؤ نے مذکورہ ٹینکر کو گلانا شروع کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر جنم لینے والی تباہی ... 1989 میں امریکا میں Exxon Valdez نامی آئل ٹینکر کے رساؤ کی تباہی سے 4 گُنا زیادہ ہو گی۔ تیس سال قبل پیش آنے والے واقعے کو تاریخ میں سب سے بڑی ماحولیاتی تباہی شمار کیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ نے رواں سال مئی میں آئل ٹینکر کے معائنے کے لیے ایک تکنیکی ٹیم بھیجی تھی مگر حوثیوں نے اس کے پہنچنے میں رکاوٹ ڈال دی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ "صافر" آئل ٹینکر میں موجود تقریبا 15 لاکھ بیرل تیل کا رساؤ جاری رہا تو اس کے نتیجے میں جنم لینے والی اقتصادی اور ماحولیاتی تباہی کی پرچھائیاں نہ صرف یمن بلکہ پڑوسی ممالک پر بھی پڑیں گی۔
مارچ 2018 میں یمن میں آئینی حکومت نے تباہی واقع ہونے کے حوالے سے خبردار کیا تھا۔ حکومت نے اقوام متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا تا کہ مذکورہ تیل بردار جہاز کی مرمت عمل میں آ سکے۔ حوثیوں نے اس جہاز کو بلیک میلنگ کے واسطے کارڈ کے طور پر محفوظ کیا ہوا ہے تا کہ الحدیدہ میں کسی بھی فوجی کارروائی کا مقابلہ کیا جا سکے۔