.

معذور والدین کوحج کرانے والے سعادت مند فرزندوں کا ایمان افروز احوال

وہیل چیئر پر فرئضہ حج کی ادائی کے مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر سے فرئضہ حج کی ادائی اور بیت اللہ کے دیدار کا شرف حاصل کرنے والوں میں جہاں ہرعمر کے مسلمان آتے ہیں وہیں بعض ایسے عازمین حج بھی ہوتے ہیں جو بیماری یا معذوری کے سبب اپنی مدد آپ کے تحت فرئضہ حج کی ادائی سے معذور ہوتے ہیں۔ ایسے افراد اپنے ساتھ آئے عزیزو اقارب کی مدد سے مناسک حج ادا کرتےہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے کیمرہ ٹیم نے حالیہ حج سرگرمیوں کے دوران مریض اور معذور عازمین حج کی وہیل چیئر پر نقل وحرکت کے محبت اور والدین سے احسان وحسن سلوک کے دل آویز مناظر محفوظ کیے۔

حج کی ادائی کے لیے آئی معذور خاتون الحاجہ زینب نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'میں سات سال سے چلنے پھرنے سے قاصرہوں۔ گھٹنوں میں تکلیف کی وجہ سے میں اپنے پائوں پر زیادہ دیر کھڑی نہیں رہ سکتی۔ گذشتہ ہفتے میری سرجری کا فیصلہ کیا گیا تھا مگر میں نے ڈاکٹروں سے کہا کہ میں پہلے حج کروں گی، اس کے بعد اپنے گھٹنوں کی سرجری کرائوں گا'۔

زینب کا کہنا تھا کہ میں سوچ رہی تھی کہ شاید میں حج کی سعادت حاصل نہ کر سکوں مگر آج میں میری زندگی کی آخری خواہش پوری ہو گئی ہے۔ میرے ساتھ میری معاونت کے لیے میرا بیٹا ہے۔ اپنے اس خدمت گار بیٹے کے لیے دعاگو ہوں جس نے خدمت کا حق ادا کیا ہے۔ میں اس کے ہمراہ طیارے پر سوار ہوئی۔ اب سعودی عرب پہنچ گئی ہوں۔ میں بہت خوش ہوں کہ اب میں بیت اللہ کا طواف کروں گی'۔

ایک دوسرے معذور حاجی کے بیٹے عبدالبصیر نے کہا کہ میرے والدین نے میری تعلیم وتربیت کی اور مجھے پالا پوسا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ میں والدین کی خدمت کروں۔

اس نے کہا کہ حقیقی معنوں میں والد کے ساتھ حج کے لیے حجاز مقدس آنا ہماری بہت بڑی سعادت ہے۔ میں اپنے والد کی وہیل چیئر کو حرکت دیتا رہتا ہوں مگر مجھے اس میں کوئی تھکاوٹ نہیں ہوتی۔