ایران کے غیر فعال گروپ واشنگٹن اور تل ابیب کے مفادات پر حملوں کے لیے تیار ہیں : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ایک امریکی اکیڈمک محقق نے خبردارکیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ چھڑنے کی صورت میں ایران امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مشرق وسطی میں اپنے 2 لاکھ ایجنٹوں کی معاونت حاصل کر سکتا ہے۔

یہ بات دی واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی میں انسداد دہشت گردی اور انٹیلی جنس پروگرام کے ڈائریکٹر میتھیو لیویٹ نے اسرائیلی اخبار "ہآرٹز" میں شائع ایک رپورٹ میں بتائی۔

ایران اور مغرب کے درمیان کشیدگی بالخصوص تیل پر عائد پابندیوں اور خلیج عربی میں جہاز رانی کی آزادی کے حوالے سے تناؤ میں اضافے کے بعد ... ایران شدت پسند ایجنٹوں پر مشتمل اپنے نیٹ ورکس سے استفادے میں کامیاب ہو گیا جنہوں نے ایران کی طرف سے حملوں کی کارروائیاں انجام دیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ جنرل محمد علی جعفری کے مطابق خطے کے مختلف ممالک میں تقریبا 2 لاکھ مسلح افراد پر مشتمل فورس موجود ہے جو ایرانی پاسداران انقلاب کی الفیلق فورس کے زیر نگرانی ہے۔ اسی طرح غیر سرکاری (جيش التحرير الشيعی) فورس عراقی شیعہ ملیشیاؤں، یمنی حوثی ملیشیا کے عناصر اور یقینا لبنانی حزب اللہ پر مشتمل ہے۔

اسرائیل بھی ان مذکورہ ایجنٹوں کے سنگم کے دائرہ کار میں واقع ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی کمیٹی کے سربراہ مجتبی ذو النور کا یہ بیان پہلے ہی آ چکا ہے کہ "اگر ہمیں (ايران کو) امریکی حملے کا نشانہ بنایا گیا تو اسرائیل کی صرف آدھے گھنٹے کی عمر باقی رہ جائے گی"۔

اس مبالغہ آرائی سے قطع نظر ایران نے عراقی شیعہ ملیشیاؤں کو ایسے میزائل فراہم کرنا شروع کر دیے ہیں جو اسرائیل میں کسی بھی مقام پر اہداف کو درست طور نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں بعض اخباری رپورٹوں میں یہ دعوی کیا گیا کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے عراق میں ایرانی میزائلوں کی کھیپوں کو نشانہ بنایا جو لبنانی حزب اللہ کو منتقل کی جا رہی تھیں۔

میتھیو لیویٹ کے مطابق ایران کے ساتھ امریکی جنگ کی صورت میں حزب اللہ کا لڑائی میں شرکت کے حوالے سے موقف بالکل واضح ہے۔ حزب اللہ کے المنار ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں تنظیم کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ یہ کہہ چکے ہیں کہ "جنگ میں ایران اکیلا نہیں ہو گا، یہ بات واضح ہے"۔

ایران کے ساتھ جنگ وسیع دائرہ کار میںہوئی تو یہ بات یقینی ہے کہ حزب اللہ تنظیم اسرائیل کو توپ کے گولوں اور میزائلوں سے نشانہ بنائے گی۔ حسن نصر اللہ کے مطابق اب تنظیم کا اسلحہ خانہ 2006 کی جنگ کے مقابلے میں "3 گُنا" زیادہ ہو چکا ہے۔ اس میں ایسے ہتھیار شامل ہیں جو شمالی سرحد سے لے کر جنوب میں ایلات کے علاقے تک کسی بھی ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

تاہم حسن نصر اللہ اپنے تمام تر دعوؤں کے باوجود اس وقت اسرائیل کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔ ہآرٹز کے مضمون کے مطابق بالخصوص اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کی سرنگوں کے انکشاف اور ان کو تباہ کیے جانے کے بعد ...

مضمون نگار نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورت حال میں حزب اللہ کی بیرونی کارروائیوں کے ذمے دار اداروں کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران حزب اللہ کے بیرونی کارروائیوں کے یونٹ کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سال 2008 میں حزب اللہ کے دہشت گرد عماد مغنیہ کی ہلاکت کے انتقام کے واسطے کارروائیاں عروج پر پہنچ گئیں۔

حزب اللہ نے 2012 میں بلغاریا میں اسرائیلی سیاحوں کو حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم اس کے بعد سے دنیا بھر میں دہشت گردی کے منصوبوں کی ایک طویل فہرست ہے جن کو دور دراز علاقوں مثلا بولیویا، قبرص، پیرو، تھائی لینڈ اور برطانیہ میں ناکام بنایا گیا۔ علاوہ ازیں کینیڈا اور امریکا وغیرہ میں بھی حزب اللہ کے بیرونی یونٹ کی کارروائیوں پر عمل درامد سے پہلے ان کو بھانپ لیا گیا۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کی صورت میں خطے میں القدس فورس کے حلیف اسرائیل کو میزائلوں یا دیگر نوعیت کے حملوں سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایسا نظر آتا ہے کہ ایران نے حماس کے ساتھ بھی ایک معاہدہ طے کر لیا ہے کہ اسرائیل کی شمالی سرحد پر لڑائی چھڑ جانے کی صورت میں غزہ سے اسرائیل کو نشانہ بنایا جائے۔ عراقی مسلح عناصر کی جانب سے بھی مغربی عراق سے اسرائیل پر میزائل داغے جا سکتے ہیں یا پھر عراق کے راستے میزائلوں کو لبنان منتقل کرنے میں مدد کی جا سکتی ہے تا کہ وہاں سے حزب اللہ ان کو اسرائیل پر داغ سکے۔ اسی طرح حزب اللہ کے عناصر گولان کی پہاڑیوں میں شام کی جانب سے یا پھر لبنان کی سرحد کے پار سے اسرائیل کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

تاہم ہآرٹز اخبار کا کہنا ہے کہ ان میں سے کسی بھی منظرنامے پر اسرائیل کی جانب سے شدید انتقامی رد عمل دیکھنے میں آئے گا۔

اخبار کے مطابق اسرائیل کی جانب سے احتیاطی اقدامات کے سلسلے میں ایرانی ایجنٹ حزب اللہ کے لیے ہتھیاروں کی کھیپوں ، سرنگوں اور لوجسٹک خدمات کو نشانہ بنانے کا مقصد ایران کو حملے کے مختلف آپشنز سے محروم کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں