روحانی نے وعدوں پر عمل کے لیے آئینی اختیارات استعمال نہیں کیے: ایرانی رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی پارلیمنٹ کے رکن علی مطہری نے نے صدر حسن روحانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اصلاحی پالیسیوں کے حوالے سے ووٹرز سے کیے گئے وعدوں پر عمل درامد کے لیے اپنے آئینی اختیارات کا فائدہ نہیں اٹھایا۔

ایرانی پارلیمنٹ میں تہران کی نمائندگی کرنے والے مطہری کے مطابق صدر حسن روحانی اپنے آئینی اختیارات کو نافذ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہے جب کہ محمود احمدی نژاد اپنے قانونی اختیار کو استعمال کرنے میں زیادہ جرات مند تھے۔

ایران میں اقتصادی بحران، سماجی مسائل اور حکمراں دھڑوں کے تنازع میں سنگینی آنے کے بعد سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قریبی سخت گیر حلقے زیادہ اثرا انداز اور نفوذ کے حامل ہو گئے ہیں۔ ان عناصر نے اقتصادی اور سیکورٹی پالیسیوں جیسے امور کی باگ ڈور سنبھال لی ہے جو کہ خاص طور پر صدر کے ہاتھوں میں ہونے چاہئیں۔

ادھر مبصرین کا کہنا ہے کہ حسن روحانی سپریم لیڈر خامنہ ای یا پاسداران انقلاب کو چراغ پا نہیں کرنا چاہتے کیوں کہ روحانی پروسٹیٹ کے سرطان میں مبتلا سپریم لیڈر خامنہ ای کے ممکنہ جاں نشینوں میں جگہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

مطہری کے مطابق صدر روحانی غیر ذمے دار افراد اور اداروں کو ریاست کے امور اور حکومتی ذمے داریوں میں مداخلت کی اجازت دے رہے ہیں۔ ایرانی صدر نے چھوٹ دے رکھی ہے کہ وزراء کے چُناؤ میں ان عناصر کی رائے شامل ہو۔ اسی طرح اقتصادی فیصلے بھی دوسروں پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ مطہری کا اشارہ پاسداران انقلاب اور دائیں بازو کی شخصیات کی جانب تھا۔

ایرانی آئین کا آرٹیکل 113 یہ کہتا ہے کہ (مرشد اعلی کے بعد) ملک کا صدر ہی آئین پر عمل درامد کا ذمے دار ہے۔ وہ مرشد اعلی کے دفتر سے براہ راست متعلق امور کے سوا تمام امور میں انتظامیہ کا سربراہ ہے۔

حالیہ دنوں کے دوران ایرانی صدر کے خلاف تنقید کا سلسلہ بڑھ گیا ہے۔ سابق صدر محمد خاتمی نے بھی اس بات پر روحانی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ موجودہ صدر نے حکومت کے کام مین مداخلت کرنے والے متوازی اداروں کو انتباہی میمو بھیجنے کے لیے اپنا آئینی حق استعمال نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں