.

خان شیخون میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے بیچ جھڑپوں میں 60 افراد ہلاک : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد نے ادلب کے جنوبی دیہی علاقے میں خان شیخون کے مشرق میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران 60 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ہلاک شدگان میں شامی حکومت اور مسلح اپوزیشن گروپوں کے ارکان کے علاوہ عام شہری بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ شامی حکومت نے اپنی فورسز کے عناصر کو ہفتے کے روز خان یونس شہر کے شمال میں عسکری کمک کے ضمن میں اکٹھا کر لیا تھا۔ یہ اقدام علاقے میں پیش رفت جاری رکھنے کی کوشش کے سلسلے میں تھا۔ اس سے ایک روز قبل شامی فوج اسی علاقے میں ترکی کی اہم چیک پوسٹ کو گھیرے میں لینے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

شامی حکومت کی فورسز نے جمعے کے روز حماہ کے شمالی دیہی علاقے میں اپن تمام دیہات اور قصبوں پر کنٹرول حاصل کر لیا جو اپوزیشن گروپوں کے زیر کنٹرول تھے۔ اس سے قبل شامی فورسز نے بدھ کے روز خان شیخون پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔

ادلب کے علاقوں اور ملحقہ صوبوں کے کچھ حصوں پر تین ماہ سے زیادہ عرصے تک بھرپور شامی اور روسی بم باری کے بعد رواں ماہ کی 18 تاریخ کو بشار کی فوج نے بڑا حملہ کیا۔ اس دوران اس نے ادلب کے جنوبی اور حماہ کے شمالی دیہی علاقوں میں کئی قصبے واپس لے لیے۔

ادھر اپوزیشن گروپوں کو سپورٹ کرنے والے ترکی کی فورسز نے ادلب اور اس کے اطراف 12 چیک پوسٹوں پر اپنے فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔ یہ چیک پوسٹیں بشار حکومت کو سپورٹ کرنے والے حلیف روس کے ساتھ ایک سمجھوتے کے تحت قائم کی گئیں۔