.

مصر: جیل توڑنے کے جُرم میں الاخوان کے مُرشدِعام سمیت 11 افراد کو عمر قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک فوجداری عدالت نے کالعدم مذہبی سیاسی جماعت الاخوان المسلمون کے مُرشدِعام محمد بدیع سمیت گیارہ افراد کو 2011ء میں عرب بہاریہ تحریک کے دوران میں جیل توڑنے کے جرم میں قصور وار قرار دے کر عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

قاہرہ کی فوجداری عدالت میں الاخوان کے قائدین اور کارکنان کے خلاف جیل توڑنے کے الزام میں مقدمے کی دوبارہ سماعت کی گئی ہے۔عدالت نے ہفتے کے روز اس مقدمے کا فیصلہ سنایا ہے اور آٹھ مزید ملزمان کو قومی سلامتی سے متعلق ان ہی الزامات میں قصور وار قرار دے کر پندرہ، پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے اس مقدمے میں ماخوذ آٹھ اور افراد کو ناکافی شواہد کی بنا پر برّی کردیا ہے اور سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی مرحوم کے خلاف الزامات ختم کردیے ہیں۔ ڈاکٹر مرسی جون میں قاہرہ ہی کی عدالت میں اپنے خلاف ایک اور مقدمے کی سماعت کے دوران میں اچانک طبیعت بگڑجانے سے انتقال کرگئے تھے۔

ڈاکٹر محمد مرسی، الاخوان کے مرشد عام محمد بدیع اور دوسرے لیڈروں اور کارکنان کے خلاف قاہرہ کی اس فوجداری عدالت میں حسنی مبارک کے خلاف 2011ء کے اوائل میں عوامی احتجاجی تحریک کے دوران میں جیل کی عمارتوں کو نقصان پہنچانے، انھیں نذر آتش کرنے ، قتل ، اقدام ِقتل ، جیل کے اسلحہ ڈپو سے ہتھیاروں کو لوٹنے اور حماس ، حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے قیدیوں اور دوسرے مجرموں کو جیلوں سے بھگانے کے الزامات میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔

ان کے خلاف عدالت میں معزول صدر حسنی مبارک نے بھی 26 دسمبر 2018 ء کو بیان دیا۔انھوں نے تھا کہ’’25 جنوری انقلاب کے دوران میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 800 افراد نے مصر کی مشرقی سرحد سے دھاوا بولا تھا اورغزہ سے سرنگوں کے راستے مصر کی سرزمین میں داخل ہوئے تھے۔ان کے پاس ہتھیار تھے۔انھوں نے حزب اللہ ، حماس اور الاخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو رہا کرانے کے لیے جیلوں کا رُخ کیا تھا‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے وادی النطرون جیل کو توڑا تھا کیونکہ وہاں الاخوان المسلمون اور حماس سے تعلق رکھنے والے افراد قید تھے۔ ان حملہ آوروں نے شمالی سیناء میں پولیس افسروں کو قتل کیا تھا ۔ انھوں نے عدالت سے کہا کہ ان کے پاس مزید بھی معلومات ہیں لیکن انھیں افشا کرنے کے لیے ایوان ِ صدر سے اجازت کی ضرورت ہے۔

مصر کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ دو سابق صدور حسنی مبارک اور ڈاکٹر محمد مرسی پہلی مرتبہ عدالت کے ایک ہی ہال میں اکٹھے ہوئے تھے۔الا خوان المسلمون کے مبیّنہ حامیوں نے جب جیلوں اور پولیس تھانوں پر دھاوے بولے تھے،اس وقت حسنی مبارک صدارت کے منصب پر فائز تھے اور انھیں اسی حیثیت میں عدالت میں گواہی کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ ان واقعات کے بعد 25 جنوری 2011ء کو ان کی طویل مطلق العنان حکمرانی کا خاتمہ ہوگیا تھا۔