.

نیتن یاھو کی وادی اردن کواسرائیل میں ضم کرنے کےاعلان کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے اس بیان کی عرب ممالک کی طرف سے شدید مذمت کی جا رہی ہے جس میں انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کی وادی اردن کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کی بات کی ہے۔

منگل کو نیتن یاھو نے ایک بیان میں کہا کہ 17 ستمبر کو اسرائیل میں ہونے نیسٹ کے انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وہ وادی اردن کو اسرائیل کا باقاعدہ حصہ بنانے کا اعلان کریں گے۔ ان کے اس بیان پرعرب ممالک کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے جب کہ بعض حلقوں نے اسے انتخابی پروپیگنڈہ قرار دیا ہے۔

نیتن یاہو نے ٹیلیویژن خطاب میں کہا ، "ایک ہی جگہ ہے جہاں ہم انتخابات کے بعد ہی اسرائیلی خودمختاری کا اطلاق کرسکتے ہیں۔"

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے پراہم آہنگی کے باوجود انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وہ غرب اردن کی یہودی کالونیوں کے اسرائیل میں الحاق کااعلان کریں گے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ نیتن یاھو کے دھمکی آمیز بیان پر تنازع کے دو ریاستی کے حل کی کوششیں تباہ ہوجائیں گی۔

خیال رہے کہ وادی اردن میں مغربی کنارے کا ایک تہائی حصہ ہے۔

امن عمل کو اڑا دیں

منگل کے روز عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے کہا کہ عرب وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے منصوبے کی مذمت کی ہے۔

ابو غیط نے قاہرہ میں وزر خارجہ ایک روزہ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا مغربی کنارے کی سرزمین سے متعلق نیتن یاھو کے بیانات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔ اس کے نتیجے میں امن مساعی تباہ ہوسکتی ہیں۔

اردن کا رد عمل

اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفدی نے اپنے رد عمل میں کہا کہ آج اسرائیلی وزیر اعظم کے اس اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کو الحاق کرنے اور وادی اردن اور شمالی بحیرہ مردار پر اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسے ایک خطرناک جارحیت سمجھا جائے گا جو امن عمل کی بنیادوں کو مجروح کرتا ہے اور پورے خطے کو تشدد اور تنازعات کی طرف دھکیلنے کا موجب بن سکتا ہے۔

الصفدی نے اسرائیلی وزیر اعظم کے اعلان کو مسترد کرنے کی تصدیق کی اور اسے بین الاقوامی قانون اور اس عالمی قراردوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔

صفدی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے فلسطین میں یہودی آباد کاری اور غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کے نیتن یاھو کے اعلان کا نوٹس لیے۔ انہوں نے اسرائیل پر ایک بار پھر 4 جون 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے تمام علاقے فورا خالی کرنے اور آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔

امن مساعی دفن کرنے کی کوشش

تنظیم آزادی فلسطین 'پی ایل او' کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سکریٹری جنرل ، صایب عریقات نے کہا کہ نیتن یاہو کے اس اعلان سے امن کے کسی بھی امکان کو ختم کردیا گیا ہے۔

عریقات نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا' اگر الحاق پر عمل درآمد ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگلے کم سے کم 100 سال تک امن کے کسی بھی امکان کو دفن کردیا جائے گا'

فلسطینی تنظیم 'حماس' نے اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کو انتہا پسندوں کے ووٹ حاصل کرنے کا ایک نعرہ قرار دیا۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ، "نیتن یاھو ابھی بھی اس کوشش میں ہے کہ وہ فلسطینی سرزمین پر قبضہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔ فلسطینی عوام اس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک کہ اس سرزمین سے غاصبانہ قبضہ ختم کرکے اپنی آزاد ریاست قائم نہیں کی جاتی'۔