ایرانی اسلحہ سے ارامکو تنصیبات پرعالمی توانائی کی رسد کو نشانہ بنایا گیا: الجبیر
سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے جمعرات کے روز کہا کہ ایرانی ہتھیاروں سے بقیق اور خریص میں تیل کی تنصیبات پرایرانی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔ اس بزدلانہ حملے کا ہدف عالمی توانائی کی رسد کو نشانہ بنانا تھا۔
الجبیر نے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ یہ شیطانی حملہ ایران کی تخریبی اور جارحانہ پالیسیوں کی ایک نئی کڑی ہے۔عالمی برادری کو اپنی ذمہ داریوں کو قبول کرنا ہوگا اور ایران کے مجرمانہ سلوک کے بارے میں دو ٹوک موقف اپنانا ہوگا۔
1- استهداف بقيق وخريص بأسلحة إيرانية ليس اعتداءاً على المملكة فقط بل يعتبر اعتداء على العالم من خلال استهداف امدادات الطاقة للأسواق الدولية.
— Adel Aljubeir عادل الجبير (@AdelAljubeir) September 19, 2019
الجبیر نے کہا کہ ایران کی مجرمانہ کارروائیوں کی روک تھام میں نرمی برتنے سے تہران کی تخریبی سوچ کی مزید حوصلہ افزائی ہوگی۔ اس سے نہ صرف خطے میں بلکہ بین الاقوامی سلامتی اور امن پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔
سعودی وزارت دفاع نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ ایران کی حمایت سے سعودی آرمکو تنصیبات پر حملے شمال سے کیے گئےہیں۔
وزارت دفاع نے میزائلوں کی باقیات کی تصاویر دکھائیں جو بقیق اور خریص میں تنصیبات پر حملوں میں استعمال کیے گئے۔ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ایران کے اپنے پراکسیوں کے ذریعے خطے میں تخریب کاری کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں۔"