موصل میں مسیحی ورثے کے احیاء کے لیے یونیسکو اور امارات کے درمیان سمجھوتا
عراق کے شہر موصل میں مسیحی ثقافتی ورثے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسکو اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پایا ہے۔ اس معاہدے کے تحت موصل میں واقع دو گرجا گھروں "الطاہرہ" اور "الساعۃ" کی تعمیر نو عمل میں آئے گی۔
معاہدے پر متحدہ عرب امارات کی وزیر برائے ثقافت و علمی ترقی نورا بنت محمد الکعبی اور یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آڈری ایزولے نے پیرس میں ملاقات کے دوران دستخط کیے۔
یہ سمجھوتا یونیسکو کے منصوبے 'اِحیاءِ روحِ موصل' کے سلسلے میں ایک نیا اضافہ ہے .. اور موصل کو داعش تنظیم سے آزاد کرائے جانے کے بعد وہاں ثقافتی اور مذہبی تنوع کی یادگاریں بچانے کی حالیہ کوششوں کے حوالے سے ایک بڑی اور اہم پیش رفت ہے۔ واضح رہے کہ مسیحی برادری موصل شہر کی تاریخ اور اس کے مستقبل کا جزولاینفک ہے۔
موصل شہر پر داعش تنظیم کے قبضے کے دوران مذکورہ تاریخی گرجا گھروں کو کافی نقصان پہنچا تھا۔
یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل اور اماراتی خاتون وزیر کی ملاقات کے دوران موصل میں جامع مسجد النوری اور اس کے میناروں کی تجدید کے لیے جاری کامیاب تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ یہ اقدام 'اِحیاءِ روحِ موصل' منصوبے کے سلسلے میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ منصوبے کی فنڈنگ متحدہ عرب امارات کی جانب سے کی گئی ہے۔
مذکورہ منصوبے میں ثقافتی یادگاروں کی تعمیر نو اور تجدید کے علاوہ درج ذیل مقاصد بھی شامل ہوں گے:
- پیشہ ور نوجوانوں کے لیے کام کے دوران تربیتی پروگرامز کا قیام
- تعمیراتی کاری گروں، بڑھئی، لوہاروں اور دست کاری سے وابستہ افراد کی مہارت میں اضافہ
- روزگار کے مواقع پیدا کرنا
- تکنیکی اور پیشہ وارانہ تربیت پیش کرنا
اس کے علاوہ موصل یونیورسٹی میں آثار قدیمہ اور سول انجینئرنگ کے شعبوں کے طلبہ کو تاریخی عمارتوں کی تعمیر نو اور تجدید کے عمل میں شریک کیا جائے گا۔ اس سے طلبہ کی صلاحیتوں میں ترقی ہو گی۔