.

شام : راس العین کے مغرب میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا جوابی حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کے مطابق سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کی جانب سے راس العین شہر کے مغرب میں ترکی کی فورسز اور اس کے ہمنوا شامی اپوزیشن گروپوں پر جوابی حملہ کیا جا رہا ہے۔ اس دوران شدید اور متبادل گولہ باری کے بیچ جھڑپوں کا محور تل حلف المناجیر کا علاقہ ہے۔

ایس ڈی ایف نے علاقے میں پیش قدمی کو یقینی بناتے ہوئے بعض ٹھکانوں اور پوزیشنوں کو واپس لے لیا ہے جو گذشتہ گھنٹوں کے دوران اس کے ہاتھ سے نکل گئی تھیں۔ المرصد کے مطابق جھڑپوں میں فریقین کے مزید ارکان ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل المرصد نے بتایا تھا کہ راس العین شہر میں اور المناجیر کے اطراف ایس ڈی ایف کی ترکی کی فورسز اور اس کے ہمنوا شامی اپوزیشن گروپوں کے ساتھ شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران فضائی بم باری اور زمینی گولہ باری کی جاتی رہی۔

ترکی اور اس کے ہمنوا گروپوں نے بدھ کے روز شمال مشرقی شام میں کرد فورسز کے خلاف حملہ شروع کیا تھا۔

ترکی کی جانب سے اس حملے کا مقصد شام کی اراضی میں 32 کلو میٹر اندر تک اپنے زیر کنٹرول ایک سیف زون قائم کرنا ہے جہاں اُن 36 لاکھ پناہ گزینوں کا ایک بڑا حصہ منتقل کیا جا سکے جو اس وقت ترکی میں موجود ہیں۔

اس سے قبل شام میں کرد خود مختار انتظامیہ نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ شامی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس کے تحت بشار کی فوج ترکی کے ساتھ سرحد پر تعینات ہو گی تا کہ ان علاقوں میں جاری ترکی کے حملے کو روکا جا سکے۔

سال 2012 سے کردوں کے علاقوں سے شامی افواج کے بتدریج انخلا کے بعد کرد اپنے لیے انتظامی اور سیکورٹی ادارے قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے اپنی زبان اور ثقافتی ورثے کا احیا کیا اور اپنے علاقوں کے امور آسان بنانے کے لیے خود مختار انتظامیہ کا اعلان کر دیا۔

کرد یونٹس کو سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی ریڑھ کی ہڈی شمار کیا جاتا ہے۔ شام کے شمال اور شمال مشرق میں وسیع علاقوں سے داعش تنظیم کے قلع قمع کے بعد سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے شام کے تقریبا 30% رقبے کا کنٹرول حاصل کر لیا۔